بے عزتی کا بدلہ
ایک دور تھا جب امریکہ کے ائیر پورٹس پر امریکہ آنے والے مسافروں کی ایسے تلاشی کی جاتی تھی
جیسے پوری دنیا چور ھو اور صرف امریکن ھی معزز ھوں۔
برازیل کا ایک تاجر بہت عرصے سے امریکہ جآتا جاہتا تھا
آخر پروگرام بنا کر وہ امریکہ کے سفر پر روانہ ھو کیا۔
وہاں جب پہنچا تو اس نے دیکھا کہ ایئرپورٹ پر ھر آنے والے مسافر کی بہت سخت تلاشی کی جا رھی تھی
یعنی کپڑے جوتے وغیرہ اتار کر اچھی طرح چیک کیئے جا رھے تھے
اس نے جب وہاں یہ حالت دیکھی تو بہت زیادہ پریشان ھوا وہاں تلاشی دینے والے مسافروں کی لمبی قطار لگی ھوئی تھی
ایسا منظر اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
جب اسکی باری آئی اور امریکی امیگریشن والوں نے اسے بھی جوتے اتارنے کا حکم دیا۔
اس نے یہ آرڈر ماننے سے انکار کر دیا ۔
امیگریشن افسر نے اسکا پاسپورٹ دیکھا اور اس پر ڈی پورٹ کرنے کی مہر لگا دی۔
وہ اگلی فلائیٹ سے واپس برازیل پہنچ گیا
جو کہ اس نے اپنی بہت زیادہ توہین محسوس کی۔
اس نے وہاں اپنے ملک میں ایک پریس کانفرنس بلائی اور تمام ماجرا پریس کے سامںے بیان کر دیا ۔
اس پریس کانفرنس نے برازیل میں طوفان برپا کر دیا۔
برازیل کی حکومت نے امریکہ کے سفیر کو بلایا اور سب کچھ بتایا۔
لیکن امریکہ نے اسے معمول کی کاروائی قرار دیا ۔
لیکن یہ معاملہ اب برازیل کی پارلیمنٹ میں بھی چلا گیا۔
برازیل کی پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا کہ آج سے جو بھی امریکی برازیل میں قدم رکھے گا اس کی مکمل اور تفصیلی تلاشی لی جائے گی۔
فوری طور پر اس قانون پر عمل درآمد شروع بھی ھو گیا۔
اس قانون پر امریکی حکومت نے شدید احتجاج کیا، تو برازیل نے خوبصورت جواب دیا اور کہا
" یہ تو ھماری معمول کی کاروائی ھے"
2002 to 2006
برازیل دنیا کا واحد ملک تھا جس کے تمام ائیر پورٹس پر صرف ایک ملک کے شہریوں کی تلاشی ھوتی تھی اور وہ ملک تھا ( امریکہ )
امریکہ نے بلآخر معافی مانگی اور پھر یہ سلسلہ دونوں جانب ختم ھوا۔
کاپی پیسٹ
یہ بھی پڑھیں۔۔۔۔
