Reasons for divorce and its disadvantages

GR SONS

 

طلاق کی وجوہات اور اس کے نقصانات




لازمی پڑھیں مکمل پڑھیں

اور آگے بھیجیں کیا معلوم آپ کے ایسا کرنے سے کسی کا گھر ٹوٹنے سے بچ جائے


اسکے وکیل کی طرف سے بھیجے گئے کاغذات میز پر رکھے تھے، اور ایسا نہی تھا کہ وہ انکے بعد کے مستقبل سے بے خبر تھی…
مگر وہ کرسی پر بت بنی بیٹھی تھی۔
گذشتہ زندگی ایک فلم کی طرح اس کے دماغ کی سکرین پر چل رہی تھی…
پھر اچانک ایک منظر پر جیسے وقت رک سا گیا۔

یہ وہی آدمی تھا…
جس نے ایک رات اُس کے شدید بخار میں پوری رات جاگ کر اُس کے ماتھے پر ٹھنڈی پٹیاں رکھی تھیں… خود ایک لمحہ نہ سویا… اور صبح دونوں کا ناشتہ بنایا خود بھی کیا اور اسے بھی کھلایا اور خاموشی سے دفتر بھی چلا گیا تھا… صرف اس لیے کہ گھر کے خرچے نہ رکیں۔
اُس دن اُس نے اپنی سوجی ہوئی آنکھوں سے مسکرا کر کہا تھا: “تم سو جاؤ… میں ہوں نا…”
اور آج…
وہی انسان “case file” بن چکا تھا۔

کاش لوگ سمجھتے کہ شادی محبت ختم ہونے سے نہیں… یادداشت ختم ہونے سے ٹوٹتی ہے۔

کیونکہ اکثر گھروں میں محبت مرتی نہیں… بس روزمرہ کی تھکن، انا، خاموشی، ذمہ داریوں، بے وقت توقعات، comparison، اور باہر سے آنے والی “جدید مشوروں” کی زہریلی سرگوشیوں کے نیچے دب جاتی ہے۔
عالیہ کو اپنی شادی کے ابتدائی دن آج بھی ایسے یاد تھے جیسے کل کی بات ہو۔

وہ دن…
جب سارا گھر ایک پنکھے،
چند برتنوں،
اور بہت سارے خوابوں پر چلتا تھا۔

احمد کے پاس بڑی نوکری نہیں تھی… مگر محبت اور اپنائیت بہت بڑی تھی۔
اور عالیہ کے پاس بڑی آسائشیں نہیں تھیں… مگر خلوص اور دل بہت بڑا تھا۔
پہلا گھر کرائے کا تھا۔
دیواروں پر نمی رہتی تھی۔
گرمیوں میں پنکھا شور کرتا تھا۔
سردیوں میں پانی برف جیسا لگتا تھا۔

مگر انہی دنوں میں دونوں ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھاتے… رات کو چھت پر بیٹھ کر مستقبل کے خواب بناتے…

اور کبھی بجلی چلی جاتی تو احمد ہاتھ سے پنکھا جھلتے ہوئے کہتا:
“ایک دن تمہیں اے سی والے گھر میں رکھوں گا…”

عالیہ ہنس کر کہتی۔
“بس ہمیشہ ساتھ رہنا… گھر بڑا ہو یا چھوٹا، فرق نہیں پڑتا…”
اور حقیقت یہی تھی۔


انسان بڑی گاڑیوں، مہنگے گھروں اور قیمتی تحفوں سے نہیں جیتا…
وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ کوئی اُس کا اپنا ہو۔ کوئی ایسا…
جو دن کے اختتام پر اُس سے پوچھ لے: “آج بہت تھک گئے ہو نا…؟”
پھر زندگی آگے بڑھتی گئی۔
گھر میں دو بچوں سے رونق آ گئی۔
وقت کے ساتھ مہنگائی بڑھی…
خرچے بڑھے…
ذمہ داریاں بڑھ گئیں…

اور انہی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے کہیں محبت کا اظہار دبنے لگا۔ احمد اپنی فیملی کے لیے ایک بہترین مستقبل بنانے میں پہلے سے زیادہ مصروف ہو گیا۔
عالیہ بھی گھر، بچوں، اسکول، چھوٹی موٹی بیماریاں، کھانے، صفائی اور نہ ختم ہونے والے کاموں میں پہلے سے زیادہ تھکنے لگی۔

پہلے جو عورت شوہر کے آنے کی آہٹ پر آئینہ دیکھ لیتی تھی… اب وہی دروازہ کھولتے ہوئے بکھری ہوئی لگتی۔

پہلے جو مرد آفس کے معاملات آفس میں چھوڑ کر گھر آیا کرتا تھا… جو بیوی کا چہرہ دیکھ کر ہی اُس کی پریشانی بھانپ لیتا تھا… اب وہی شخص آفس کی فائلیں، پریشانیاں، tension اور مستقبل کے خوف گھر لانے لگا تھا۔
اب اُس کے ہاتھ میں فون زیادہ ہوتا… اور ذہن میں EMI، بچوں کی fees، مہنگائی، career، مستقبل اور survival کی calculations۔
اور انہی مصروفیات میں کبھی جب وہ عالیہ کو تھکا ہوا دیکھتا… تو صرف اتنا کہہ دیتا: “دوا کھا لو…”

زندگی خراب نہیں ہوئی تھی…

بس محبت، نرمی، توجہ اور appreciation کم ہو گئی تھی۔
زندگی کی ترجیحات کا تعین غلط ہو چکا تھا۔

دونوں ہی گھر کے مستقبل کو بچاتے بچاتے… گھر کے حال کو بھول گئے تھے۔
اور یاد رکھیں…

رشتے ہمیشہ بڑی لڑائیوں سے نہیں ٹوٹتے۔
کبھی کبھی وہ مسلسل نظر انداز ہونے سے مرنے لگتے ہیں۔
پھر وہی ہوا جو اکثر گھروں میں خاموشی سے ہوتا ہے۔
پہلے باتیں کم ہوئیں۔ پھر مسکراہٹیں۔ پھر شکایتیں بڑھ گئیں۔ پھر ہر جملہ دفاع بن گیا۔

عالیہ کہتی: “آپ بدل گئے ہیں…”
احمد تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیتا: “زندگی نے بدل دیا ہے…”
وہ کہتی: “آپ کے پاس میرے لیے وقت نہیں…”
وہ جواب دیتا: “میں یہ سب تم لوگوں کے لیے ہی تو کر رہا ہوں…”
وہ کہتی: “آپ پہلے جیسے نہیں رہے…”

اور احمد دل میں سوچتا: “ان سخت حالات میں، میں پہلے جیسا رہ بھی کیسے سکتا ہوں…؟”

دونوں غلط نہیں تھے…
بس دونوں ٹوٹ رہے تھے۔
خاموشی سے۔ اکیلے اکیلے۔

اور شاید دنیا کا سب سے خطرناک درد یہی ہوتا ہے… کہ دو لوگ ایک ہی گھر میں رہتے ہوں… مگر ایک دوسرے تک پہنچ نہ پا رہے ہوں۔
پھر ایک دن اچانک عالیہ کی ایک پرانی دوست کا فون آیا۔
وہ ایک بڑی کمپنی میں جاب کرتی تھی۔ اپنی گاڑی… branded کپڑے… آزاد زندگی… اور سوشل میڈیا پر “perfect life” کی چمکتی تصویریں۔

وہ اپنے شوہر سے علیحدہ ہو چکی تھی۔
اس کے لیے رشتے… احساس… قربانی… وفاداری… یہ سب صرف “options” تھے۔

اس نے لمبی سانس لے کر کہا:
“عالیہ… تم نے خود کو اس گھر میں تباہ کر لیا ہے…”
عالیہ خاموش رہی۔

وہ بولتی گئی:
“تم ابھی بھی کتنی young ہو… تم چاہو تو سو مرد تم سے شادی کرنے کو تیار ہوں گے… آخر کب تک compromise کرتی رہو گی…؟ اپنی life جیو… اپنے rights پہچانو… زندگی بار بار نہیں ملتی…”
عالیہ خاموشی سے سنتی رہی۔
مگر اُسے محسوس نہیں ہوا…
کہ یہ الفاظ اُس کے دل میں ایک ایسا بیج بو رہے ہیں… جو آہستہ آہستہ نفرت کا درخت بننے والا تھا۔

پھر ہر چھوٹی بات اُسے ظلم لگنے لگی۔ ہر خاموشی بے حسی۔ ہر تاخیر بے وفائی۔ ہر تھکن بے رخی۔
اور یہی شیطان کا سب سے خطرناک وار ہوتا ہے۔

وہ انسان کو گناہ سے پہلے احساسِ محرومی دیتا ہے… پھر اُسے اُس کی قربانیوں سے اندھا کر دیتا ہے۔
پھر وہی ہوا جو اکثر گھروں میں ہوتا ہے۔
باہر والے صرف آپ کے زخم دیکھتے ہیں… آپ کی محبت نہیں۔
پھر گھر میں صرف ضرورت کی باتیں ہونے لگیں۔
“بجلی کا بل جمع ہو گیا؟” “بچے کو اسکول سے لے آنا۔” “آج دیر ہو جائے گی۔” “دروازہ بند کر دینا…”
اور یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں شیطان خوش ہونا شروع ہوتا ہے۔

سوچیں…
جس رشتے کو توڑنے پر شیطان خوش ہوتا ہو… وہ رشتہ اللہ کے نزدیک کتنا قیمتی ہوگا۔

مگر آج ہم نے شادی کو عبادت نہیں… competition بنا دیا ہے۔
شوہر چاہتا ہے اُسے ہر وقت سمجھا جائے۔ بیوی چاہتی ہے اُسے ہر وقت اہمیت دی جائے۔

دونوں صرف اپنے زخم گنتے ہیں… دوسرے کی قربانیاں نہیں۔
پھر ایک دن شدید جھگڑا ہوا۔
اتنا شدید کہ عالیہ نے غصے میں کہا:
“شاید ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے بنے ہی نہیں تھے…”
اور احمد…
دل ہی دل میں یہ مان کر خاموش ہو گیا… کہ وہ تو خود کو مار کر… اپنی ہر خواہش دبا کر… صرف اِن سب کے لیے ہی تو جی رہا تھا۔

یہ وہ خاموشی تھی… جس کے بعد اکثر گھروں میں وکیل داخل ہوتے ہیں۔
پھر خاندان… دوست… مشورے… اور modern slogans۔
“You deserve better…”
“اتنا compromise کیوں…؟”
“ایک ہی زندگی ملی ہے…”
“Toxic relationship
میں رہنے کا کیا فائدہ…؟”
کسی نے یہ نہیں پوچھا:
کیا واقعی ظلم ہے…؟
یا صرف دو تھکے ہوئے لوگ ہیں… جنہوں نے ایک دوسرے کو appreciate کرنا چھوڑ دیا ہے…؟
پھر خلع کے کاغذات آ گئے۔
گھر میں عجیب سردی تھی۔
وہی گھر… جہاں کبھی بچوں کی ہنسی گونجتی تھی… اب وہاں خاموشی اور وحشت دیواروں سے ٹپکتی تھی۔

اُس رات احمد بچوں کے کمرے میں گیا۔
اس کی بیٹی اور بیٹا… جن کی عمروں میں صرف دو سال کا فرق تھا… اور جو اپنے اسکول کے ذہین اور ہونہار بچوں میں شمار ہوتے تھے… دونوں سوئے ہوئے تھے۔
مگر عجیب بے سکونی کے ساتھ۔
ان کے درمیان ایک تصویر پڑی تھی۔
وہ اُن کی چند سال پہلے کی شادی کی سالگرہ کی فیملی تصویر تھی۔
جس میں چاروں ایک دوسرے کے ساتھ ہنس رہے تھے۔
بچوں کے چہروں پر اُس تصویر میں ایسی بے فکری تھی… جیسے دنیا میں اُن سے زیادہ محفوظ کوئی نہ ہو۔

مگر آج…
وہی بچے نیند میں بھی خوفزدہ لگ رہے تھے۔
ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے روتے روتے سوئے ہوں۔
بیٹی نے سوتے ہوئے بھی اپنے چھوٹے بھائی کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔
جیسے اُسے ڈر ہو کہ اب شاید سب کچھ بکھرنے والا ہے…
کیونکہ اُن کی زندگیوں کی خوشیوں کو سمیٹنے اور سنبھالنے والے خود بکھرنے والے تھے۔

احمد آہستہ سے اُن کے پاس بیٹھ گیا۔
اور اچانک اُس کی آنکھوں کے سامنے پورا ماضی گھوم گیا۔
وہ دن… جب پہلی بار بیٹے نے “ابو” کہا تھا…
وہ رات… جب عالیہ درد سے رو رہی تھی… اور اُس نے پہلی بار خوف سے سجدہ کیا تھا… اور بچوں کی طرح رو رو کر اللہ سے اُس کی زندگی مانگی تھی…

وہ مہینے… جب جیب میں صرف چند سو روپے ہوتے تھے… مگر دونوں پھر بھی ہنس لیتے تھے…

وہ عید… جب نئے کپڑے صرف بچوں کے آئے تھے…

اور وہ اور عالیہ سادہ کپڑوں میں بھی ایک دوسرے کو یہ کہہ کر تسلی دیتے تھے: “عید تو بچوں کی ہوتی ہے نا…”
احمد وہیں بیٹھا رہ گیا۔

اور پہلی بار اُس نے محسوس کیا…
طلاق صرف دو لوگوں کو الگ نہیں کرتی…
گھر صرف دو افراد کا نام نہیں… یہ ایک civilization unit ہے۔
جب یہ ٹوٹتا ہے… تو اس کے ٹکڑے نسلوں میں بکھرتے ہیں۔
نقصان آخرکار اولاد ہی کو ہوتا ہے۔
اور یہ نقصان صرف وقتی نہیں ہوتا۔

یہ بچوں کے لہجوں… اعتماد… خوف… تعلقات… مستقبل… اور پوری شخصیت میں اتر جاتا ہے۔
پھر وہی بچے بڑے ہو کر یا تو شدید غصہ رکھنے والے مرد بنتے ہیں… یا ہر مرد سے خوف کھانے والی عورتیں۔
کوئی commitment سے بھاگتا ہے… کوئی abandonment issues میں جیتا ہے… کوئی ہر تعلق میں شک کرتا ہے… کوئی محبت ملنے کے باوجود اعتماد نہیں کر پاتا۔

کیونکہ ان کے اندر بچپن سے ایک زہر انڈیلا گیا ہوتا ہے۔
وہ زہر کبھی معاشرے کی طرف سے، کبھی سکول میں مختلف تقریبات میں کلاس فیلوز کی تمسخر اتارتی نظروں کی صورت میں، کبھی ماں کی زبان سے آتا ہے… کبھی باپ کے رویے سے… کبھی خاندان کی نفرت سے… اور کبھی عدالتوں کے ماحول سے۔
پھر وہ بچہ بڑا ہو کر صرف ایک انسان نہیں رہتا… ایک unresolved trauma بن جاتا ہے۔

اکثر رشتے بے وفائی سے نہیں مرتے…
بے توجہی سے مرنے لگتے ہیں۔
اور پھر لوگ سمجھتے ہیں کہ محبت ختم ہو گئی ہے۔
حالانکہ محبت ختم نہیں ہوتی…
بس اظہار ختم ہو جاتا ہے۔

اسلام اسی لیے ہر ممکن حد تک صلح کا حکم دیتا ہے۔
قرآن فرماتا ہے: “اور صلح بہتر ہے، اور نفس تنگ دلی کی طرف مائل رہتے ہیں۔” (النساء: 128)

کیونکہ ہر انسان کا نفس چاہتا ہے: “پہل میں کیوں کروں…” “ہمیشہ میں ہی کیوں جھکوں…” “پہلے وہ معافی مانگے…”
مگر گھر انا سے نہیں بچتے…
رحم… نرمی… درگزر… اور تھوڑا سا جھک جانے سے بچتے ہیں۔

اور سچ یہ ہے…
دنیا کا خوبصورت ترین رشتہ شوہر اور بیوی کا رشتہ ہے۔
یہ وہ واحد رشتہ ہے… جہاں دو اجنبی ایک دوسرے کا سکون بن جاتے ہیں۔
جہاں ایک مرد پوری دنیا سے لڑ کر صرف ایک عورت کی مسکراہٹ کے لیے جیتا ہے۔

اور ایک عورت پوری دنیا کی سختیاں صرف اس یقین پر برداشت کر لیتی ہے کہ: “میرا شوہر میرے ساتھ ہے…”
اس رشتے کو بچانے کے لیے ہمیشہ بڑی قربانیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔
کبھی صرف: وقت پر بولا گیا “معاف کر دو…” تھکن میں بنایا گیا ایک کپ چائے… بغیر وجہ پوچھا گیا “تم ٹھیک ہو…؟” یا سوتے وقت خاموشی سے پکڑا گیا ہاتھ…
بھی ایک ٹوٹتے گھر کو بچا لیتا ہے۔

لوگ سمجھتے ہیں محبت expensive چیزوں سے زندہ رہتی ہے۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے…
محبت attention سے زندہ رہتی ہے۔
اور رشتے argument جیتنے سے نہیں… ایک دوسرے کو کھونے کے خوف سے بچتے ہیں۔

اگلے دن جب احمد آفس جا چکا تھا… عالیہ نے اپنا سامان پیک کرنے کے لیے الماری کھولی…
اسی دوران ایک پرانا ڈبہ نیچے گرا۔
اس میں چھوٹی چھوٹی چیزیں تھیں۔
ایک خوبصورت سا عید کارڈ: “پہلی عید ساتھ ❤️
ایک تصویر: جس میں دونوں بارش میں بھیگ رہے تھے۔
ایک نسخہ: جب عالیہ بیمار ہوئی تھی اور احمد پوری رات جاگتا رہا تھا۔

اور ایک چھوٹا سا کاغذ…
جس پر احمد نے شادی کے پہلے سال لکھا تھا:

“اگر کبھی ہم بہت لڑنے لگیں نا… تو مجھے وہ دن یاد دلا دینا… جب ہم ایک دوسرے کے بغیر چائے بھی نہیں پیتے تھے…”

عالیہ وہیں فرش پر بیٹھ گئی۔
اور اس بار اُس کی آنکھوں سے آنسو ایسے بہہ رہے تھے… جیسے برسوں سے بند بادل پھٹ گئے ہوں۔

دل میں کہیں ایک احساس جاگا…
وہ آدمی… جس سے وہ الگ ہونے جا رہی تھی…
وہ اُس کی زندگی کا مسئلہ نہیں تھا…
وہ تو اُس کی پوری زندگی تھا۔
اُس رات عالیہ نے خلع کے کاغذ دوبارہ کھولے…
کافی دیر دیکھتی رہی…
پھر خاموشی سے پھاڑ دیے۔

شام کو احمد گھر آیا…
تو عالیہ دروازے پر کھڑی تھی۔
احمد کے ہاتھ میں ایک پھول… اور اُس کی پسندیدہ بیکری کا favorite cake تھا۔
آنکھوں میں کچھ کھونے کا خوف… مگر چہرے پر دوبارہ جوڑ لینے کی خواہش والی دھیمی مسکراہٹ۔
کافی دیر دونوں خاموش رہے۔
پھر عالیہ نے دھیمی آواز میں کہا:

“چائے بنا دوں…؟”

احمد کی آنکھیں بھر آئیں۔

کیونکہ بعض رشتے بڑی تقریروں سے نہیں بچتے…
صرف ایک نرم لہجے سے دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں
۔
اسلام نے اسی لیے طلاق اور خلع کو پسندیدہ عمل نہیں بنایا… حالانکہ ضرورت کے وقت اس کی اجازت دی۔
کیونکہ شریعت جذبات سے نہیں… نسلوں کے انجام سے فیصلے کرتی ہے۔
سوچنے کی بات ہے…
اگر کوئی چیز حلال ہونے کے باوجود اللہ کو ناپسند ہے… تو اُس کے پیچھے کتنی بڑی حکمت ہوگی۔

طلاق اور خلع دراصل آخری راستہ ہیں… حق سمجھ کر بلا سوچے سمجھے پہلا حل نہیں۔

اگر کسی کی اولاد نافرمان بن جائے تو تو وہ اس پر اور اپنے مال پر اپنا حق سمجھ کر پہلے حل کے طور پر اسے گھر سے بے دخل نہیں کر دیتا یا عاق نہیں کردیتا۔

اگر طلاق ایسا ہی پسندیدہ عمل ہوتا تو پہلے دو بار طلاق کے باوجود عورت کو ایک ہی گھر میں ساتھ رہنے اور مرد کو مکمل نان و نفقہ ادا کرنے کی تلقین نہ کی جاتی، رجوع کے لیے اتنی آسانیاں نہ دی جاتی۔

اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی انسان بھوک سے مرنے لگے… تو شریعت اُسے جان بچانے کے لیے حرام ترین چیز کھانے کی بھی اجازت دیتی ہے۔
مگر کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اب حرام چیز کو lifestyle بنا لیا جائے…؟

بالکل اسی طرح طلاق اور خلع ضرورت کے انتہائی آخری درجے کے حل ہیں… ego management کا tool نہیں۔

اگر ظلم ہو رہا ہے… تشدد ہو رہا ہے… حق تلفی ہو رہی ہے… تو شریعت نے راستہ دیا ہے۔

مگر اگر مسئلہ صرف communication gap… مصروفیات… comparison… انا… وقتی جذبات… یا unrealistic expectations ہیں…

تو ان سب کا حل موجود ہوتا ہے۔
یاد رکھیں…
بڑوں کی ایک غلط جنگ… اور ایک غلط فیصلہ… بچوں کی پوری زندگی برباد کر دیتا ہے۔

اور بعض زخم ایسے ہوتے ہیں… جو بچپن میں لگتے ہیں…
مگر انسان پوری زندگی اُنہیں اپنے تعلقات میں اٹھائے پھرتا ہے۔

یہ زندگی صرف آسانیوں کا نام نہیں۔
یہ آزمائش ہے۔
کبھی آسائشوں کے ساتھ… کبھی مشکلات کے ساتھ۔
اور اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرما دیا:
“بے شک ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔” (البلد: 4)
سب کچھ من چاہا ملنے کا وعدہ صرف جنت میں ہے۔
دنیا میں نہیں۔

یہاں ہر رشتہ sacrifice مانگتا ہے۔

صبر مانگتا ہے۔ شکر مانگتا ہے۔ اور کبھی کبھی خاموشی سے تھوڑا سا جھک جانے کا حوصلہ بھی۔

کیونکہ بعض اوقات… گھر جیتنے کے لیے… انسان کو اپنی انا ہارنی پڑتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔