Don't be afraid to live

GR SONS

 

جینے سے مت ڈرو




ہم زندہ رہنے سے اتنا ڈرتے کیوں ہیں؟

نئے کپڑے سلوائے ہیں تو اُنہیں پہننے کے لئے کسی خاص دن کا انتظار کریں گے

نئی گاڑی خریدی مگر اسکی سِیٹ پر چڑھے لفافے نہیں اتاریں گے۔

نیا موٹرسائیکل خریدا تو اوریجنل ٹینکی اور سائیڈ cover اتار کر دوسری ٹینکی /cover خرید کر لگا لی..

نیا ڈنر سیٹ خریدا ہے مگر کھانا پرانے میں ہی کھاتے ہیں۔

پانچ ہزار والا نوٹ جیب میں ہے تو اسے کُھلا کروانے سے کتراتے ہیں کہ پھر فوری خرچ ہوجائے گا۔

گھر میں ڈیڑھ لٹر والی خالی بوتلوں کے انبار لگتے جارہے ہیں لیکن پھینکنے کا حوصلہ نہیں پڑ رہا۔

شاپنگ بیگز اکٹھے کر کر کے ایک بڑے شاپنگ بیگ میں ڈال کر رکھ چھوڑتے ہیں۔

نئی بیڈ شیٹ کیوں سوٹ کیس میں پڑی پڑی پرانی ہوجاتی ہے؟

جہیز میں ملی نئی رضائیاں کیوں بیس سال سے استعمال میں نہیں آئیں؟

باہر سے آیا ہوا لوشن کیوں پڑا پڑا ایکسپائر ہوگیا ہے؟

باتھ روم میں نئی شیمپو بوتل موجود ہے تو پانچ پرانی کا انبار کیوں لگا رکھا ہے؟

اور تو اور ہماری اکثریت اور ہم لوگ بچپن سے جوانی تک پہنچ گئے مگر اپنے ناپ کے کپڑے اور جوتے نصیب نہ ھوئے ،

جوتا احتیاطاً ایک دو نمبر بڑا لیا جاتا، لاکھ پہن کر رو کر بھی دکھایا کہ دیکھو اماں میری ایڑھی تو اس جوتے کی کمر تک جا رھی ھے
مگر ایک ہی جواب کہ پاؤں بڑھ رھا ھے اگلے سال پورا ھو جائے گا اور قسم سے اگلا سال آیا بھی نہ ھوتا اور جوتا لیرو لیر ھو جاتا ،

کپڑے ہمیشہ ایک بالشت بڑے رکھوانے ہیں تا کہ اگلے سال چھوٹے بھائی کو بھی پورے ھو جائیں۔

پتا نہیں ہم میں سے اکثر کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ اچھی چیز ہمارے لیے نہیں ہوسکتی۔

دل چاہیے۔۔۔! نئی چیز استعمال کرنے کے لیے، پہاڑ جتنا دل چاہیے۔

جو لوگ اس جھنجٹ سے نکل جاتے ہیں ان کی زندگیوں میں عجیب طرح کی طمانیت آجاتی ہے۔

یہ شرٹ خریدیں تو اگلے دن پورے اہتمام سے پہن لیتے ہیں۔

یہ ہر اوریجنل چیز کو اُس کی اوریجنل شکل میں استعمال کرتے ہیں اور ہم جیسے دیکھنے والوں کو لگتا ہے جیسے یہ بہت امیر ہیں

حالانکہ یہ سب چیزیں ہمارے پاس بھی ہوتی ہیں لیکن ہماری ازلی بزدلی ہمیں ان کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتی۔

دن پہ دن گزرتے جاتے ہیں لیکن ہم نقل کی محبت میں اصل سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔

ہم ساری زندگی اچھے لباس کے میلا ہونے کے ڈر سے جیتے ہیں اور پھر ایک دن دودھ کی طرح اجلا لباس پہن کر مٹی میں اتر جاتے ہیں۔

اس لئے اپنی چیزوں کو وقت پر استعمال کریں

کیونکہ سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں۔