اپنے سکون کی حفاظت کیجئے
زندگی کے راستے میں کبھی کبھی ہمیں ایسے الفاظ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو تیر بن کر روح کو زخمی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اکثر ہم دوسروں کے جملوں کو اپنی ذات کی توہین سمجھ کر اپنے سکون کو داؤ پر لگا دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
یاد رکھیے، انسان کے الفاظ اس کی اپنی شخصیت کا آئینہ دار ہوتے ہیں، آپ کی حقیقت کا نہیں۔ جب کوئی آپ کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کرے، تو وہ آپ کی کمی نہیں بلکہ اپنی کم ظرفی اور تربیت کا فقدان ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔
جس طرح ایک برتن سے وہی کچھ چھلکتا ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے، بالکل اسی طرح انسان کی زبان وہی اگلتی ہے جو اس کے ظرف میں ہوتا ہے۔
خوش رہنے کا فن یہ ہے کہ آپ دوسروں کے ہاتھ میں اپنے موڈ کا ریموٹ کنٹرول نہ دیں۔ جب آپ کسی کی بات کو دل پر لینا چھوڑ دیتے ہیں، تو آپ دراصل اسے یہ پیغام دیتے ہیں کہ اس کی منفی سوچ آپ کے وقار سے بہت چھوٹی ہے۔
مسکرائیے، اسے اس کے حال پر چھوڑیے اور آگے بڑھ جائیے؛ کیونکہ سمندر کبھی کنکروں کے گرنے سے ناپاک نہیں ہوتا۔
اپنے سکون کی حفاظت کیجیے، کیونکہ آپ کا ظرف دوسروں کی بدزبانی سے کہیں بلند ہے
یہ بھی پڑھیں۔۔۔۔
