ہسپتالوں کے 15 کڑوے اور خفیہ حقائق
ہسپتالوں کی سفید عمارتوں اور سفید کوٹ کے پیچھے اکثر ایسے “سیاہ سچ” چھپے ہوتے ہیں جن سے ایک عام مریض اور اس کے لواحقین بے خبر رہتے ہیں۔
یہ وہ باتیں ہیں جو ڈاکٹرز آپس میں تو کرتے ہیں، لیکن آپ کے سامنے کبھی نہیں کریں گے۔
یہ رہے ہسپتالوں کے 15 کڑوے اور خفیہ حقائق
*1*
جولائی ایفیکٹ (The July Effect)
دنیا بھر کے (اور خاص طور پر ٹیچنگ) ہسپتالوں میں سال کے کچھ مخصوص مہینوں میں (اکثر جولائی/اگست) نئے اور ناتجربہ کار ڈاکٹرز
(House Officers/Interns)
آتے ہیں۔
اس دوران طبی غلطیوں کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ آپ دراصل ان کے لیے “سیکھنے کا سامان”
(Practice Subject)
ہوتے ہیں۔
*2*
ہسپتال، جراثیم کا گھر
ہسپتال صحت یاب ہونے کی جگہ ہے، لیکن حقیقت میں یہ سب سے گندی جگہ بھی ہے۔
یہاں “سپر بگس”
(Superbugs)
ہوتے ہیں، وہ جراثیم جن پر اینٹی بائیوٹکس اثر نہیں کرتیں۔
اکثر مریض اپنی بیماری سے نہیں بلکہ ہسپتال سے لگنے والے انفیکشن (Hospital Acquired Infection)
سے مر جاتے ہیں۔
*3*
غیر ضروری ٹیسٹ اور کمیشن
یہ ایک کھلا راز ہے کہ بہت سے پرائیویٹ ہسپتالوں اور لیبارٹریوں کا گٹھ جوڑ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر آپ کو وہ ٹیسٹ بھی لکھ کر دیتا ہے جس کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ ہر ٹیسٹ پر ڈاکٹر کا 20 سے 40 فیصد “کمیشن”
(Cut)
فکس ہوتا ہے
*4*
وینٹیلیٹر کا میٹر
پرائیویٹ ہسپتالوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مریض دماغی طور پر مردہ (Brain Dead)
ہو چکا ہوتا ہے اور بچنے کی کوئی امید نہیں ہوتی
لیکن ہسپتال والے اسے وینٹیلیٹر پر رکھتے ہیں تاکہ “میٹر چلتا رہے” اور لاکھوں کا بل بن سکے۔
*5*
جمعہ کی دوپہر اور ویک اینڈ کا خطرہ
کوشش کریں کہ جمعہ کی دوپہر یا چھٹی والے دن سیریس آپریشن نہ کروائیں۔
ان دنوں میں سینئر اور ماہر ڈاکٹرز چھٹی پر ہوتے ہیں اور ہسپتال جونیئر سٹاف کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔
ویک اینڈ پر ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کی اموات کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔
*6*
ڈاکٹر کی نیند اور تھکاوٹ
آپ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر خدا کا روپ ہے، لیکن وہ ایک انسان ہے۔
ہو سکتا ہے جو سرجن آپ کا پیچیدہ آپریشن کرنے لگا ہے، وہ پچھلے 24 گھنٹوں سے سویا نہ ہو یا کسی گھریلو پریشانی میں مبتلا ہو۔
نیند کی کمی ڈاکٹر کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔
*7*
سی سیکشن
(C-Section)
کا بزنس
آج کل نارمل ڈیلیوری بہت کم ہو گئی ہے۔
اس کی وجہ صرف پیچیدگی نہیں، بلکہ “وقت” اور “پیسہ” ہے۔
نارمل ڈیلیوری میں گھنٹوں لگتے ہیں اور بل کم بنتا ہے، جبکہ بڑا آپریشن
(C-Section) 45
منٹ میں ہو جاتا ہے اور بل بھی ڈبل بنتا ہے۔
*8*
دوا ساز کمپنیوں کے تحفے
ڈاکٹر اکثر آپ کو وہ دوائی نہیں لکھ کر دیتا جو سب سے سستی اور اچھی ہو،
بلکہ وہ لکھتا ہے جس کی کمپنی نے اسے “کانفرنس” کے نام پر یورپ کا ٹرپ یا مہنگا تحفہ دیا ہو۔
یہ “نسخہ” دراصل “بزنس ڈیل” ہوتی ہے۔
*9*
موت کی خبر چھپانا
(False Hope)
ڈاکٹر اکثر جانتے ہیں کہ مریض نہیں بچے گا، لیکن وہ لواحقین کو فوراً نہیں بتاتے۔
وہ کہتے ہیں: “اگلے 24 گھنٹے اہم ہیں، دعا کریں”۔
یہ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ فیملی کو ذہنی طور پر تیار کیا جا سکے اور ہسپتال پر توڑ پھوڑ کا خطرہ کم ہو۔
*10*
وی آئی پی کلچر
ہسپتال میں “خون” سب کا لال ہوتا ہے لیکن پروٹوکول الگ ہوتا ہے۔
اگر آپ کی جان پہچان یا سفارش ہے، تو آپ کو سینئر ڈاکٹر دیکھے گا،
ورنہ آپ وارڈ بوائے اور نرسوں کے آسرے پر رہیں گے۔
*11*
کوڈ ورڈز
(Code Words)
ڈاکٹر اور سٹاف آپ کے سامنے ایسی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں جو آپ نہ سمجھ سکیں۔
مثلاً کچھ ممالک میں ڈاکٹرز انتہائی بگڑے ہوئے کیس کے لیے
“GPO” (Good for Parts Only)
یا اسی قسم کے کوڈز استعمال کرتے ہیں تاکہ مریض کو اپنی حالت کا علم نہ ہو۔
*12*
سرکاری بمقابلہ پرائیویٹ رویہ
وہی ڈاکٹر جو سرکاری ہسپتال میں آپ کو ڈانٹ کر باہر نکال دیتا ہے،
شام کو اپنے پرائیویٹ کلینک میں آپ کو مسکرا کر ملتا ہے۔
فرق “آپ” نہیں، فرق وہ “فیس” ہے جو آپ نے ادا کی ہے۔
*13*
غلطی تسلیم نہ کرنا
اگر آپریشن کے دوران ڈاکٹر سے کوئی نس کٹ جائے یا غلطی ہو جائے
تو وہ کبھی آپ کو نہیں بتائیں گے۔
وہ اسے “پیچیدگی”
(Complication)
کا نام دے کر فائل بند کر دیں گے
کیونکہ غلطی ماننے کا مطلب ہے قانونی کارروائی اور بدنامی۔
*14*
دوائیوں کی غلطی
(Medication Errors)
ہسپتالوں میں نرسنگ سٹاف کی تبدیلی
(Shift Change)
کے دوران
اکثر مریضوں کو غلط دوائی یا غلط ڈوز دے دی جاتی ہے۔
یہ غلطیاں ریکارڈ پر نہیں لائی جاتیں جب تک کہ ری ایکشن بہت شدید نہ ہو۔
*15*
آپ صرف ایک “کیس” ہیں
آپ کے لیے آپ کا مریض “پوری دنیا” ہے،
لیکن ڈاکٹر کے لیے وہ بیڈ نمبر 14 پر لیٹا ہوا “گردے کا مریض” ہے۔
ڈاکٹروں کو جذباتی طور پر “ڈی ٹیچ”
(Detach)
ہونا سکھایا جاتا ہے
ورنہ وہ روزانہ درجنوں اموات دیکھ کر کام نہیں کر پائیں گے۔
ان کی بے حسی ان کی مجبوری بھی ہے۔
ہر ڈاکٹر برا نہیں ہوتا اور مسیحا آج بھی موجود ہیں
لیکن سسٹم ایک “کاروبار” بن چکا ہے۔
ہسپتال جاتے وقت آنکھیں بند کر کے بھروسہ نہ کریں،
اپنی تحقیق کریں اور سوال پوچھنا سیکھیں۔
کاپی پیسٹ
یہ بھی پڑھیں۔۔۔
