The Atheist and the Eleven-Year-Old Child

GR SONS

 

ملحد اور گیارہ سالہ بچہ




کہا جاتا ہے کہ بغداد کے شہر میں ایک شیطان نما ملحد ہر روز مسلمانوں سے چند سوالات کیا کرتا تھا

یہ سوالات وہ روز کرتا تھا مگر مسلمانوں کے علماء اور مناظر بھی پریشان تھے کہ ان کا کیا جواب دیا جائے کیوں کہ سوال ہی کافی عجیب تھے بعض علماء نے قرآن کے آیات سے جواب دینے کی کوشش کی مگر وہ ایک نا مانا اور کہتا تھا عقلی دلیل دو تب مانوں گا

ایک دن پھر وہ بازار میں یہی سوالات دہرا رہا تھا اور کہ اچانک ایک 11 سالہ بچے نے کہا کہ میں تمھارے سوالوں کے جواب دوں گا . اول تو وہ یہ سمجھا کہ بچہ ہے ایسے ہی بول رہا مگر جب بچے نے دوبارہ کہا تو اس ملحد نے اپنا پہلا سوال کیا

سوال نمبر 1.
کہ آپ مسلمان اللہ کی عبادت کرتے ہیں مجھے یا بتاو کہ اس اللہ کو کس نے پیدا کیا اور اس سے پہلے کیا تھا ؟؟

بچے نے سوال سنا اور اس کا جواب یوں دیا

جواب .
اس بچے نے ملحد سے کہا کہ تم 10 سے الٹی گنتی شروع کرو جب اس ملحد نے گنتی شروع کی تو 1 پر آ کر رک گیا بچے نے کہا اس سے پیچھے جاؤ تو اس نے کہا اس سے پیچھے تو کچھ نہیں ہے پھر بچے نے کہا جب ایک سے پیچھے کچھ نہی ہے تو اللہ بھی ایک ہے جو ازل سے ہے اس سے پہلے بھی کچھ نہیں ہے اور جب پہلےکچھ تھا ہے نہیں تو اللہ کو کسی نے پیدا نہیں کیا. وہ ہمیشہ سے ہے

یہ سن کر وہ حیران ہو گیا اور اپنا اگلا سوال رکھا

سوال نمبر 2.
آپ لوگوں کا اللہ کس چیز کا بنا ہے مطلب کس میٹریل سے اللہ تخلیق ہوا ہے ؟؟

جواب .
بچے نے سوال سنا اور تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوا پھر اس ملحد سے کہا کہ کیا تم نے کبھی کوئی قریب المرگ انسان دیکھا ہے ؟؟ اس نے جواب دیا ہاں مرتے ہوئے دیکھا ہے انسان . بچے نے کہا کیا تم نے سوچا ہے کہ وہ جو چند منٹ پہلے حرکت کر رہا تھا اب مرنے کے بعد اس نے حرکت کرنا کیوں بند کر دی تو اس ملحد نے کہا اس کی روح نکل گئی اس لیے اس نے حرکت کرنا چھوڑ دیا , تو بچے نے اس سے سوال کیا جب روح نکل رہی تھی تو تم نے دیکھا وہ روح کس چیز کی بنی تھی مٹی کی , لوہے کی یا کسی اور چیز کی ؟؟ تو اس ملحد نے جواب دیا کہ میں روح کو نہیں دیکھ سکتا تو کیسے بتا سکتا ہوں کہ وہ کس چیز کی بنی ہے , پھر بچے نے کہا جب تم روح کو نہیں دیکھ سکتے اور یہ نہیں بتا سکتے کہ روح کس چیز کی بنی ہے مگر پھر بھی تم مانتے ہو کہ روح ہے تو پھر تم کس طرح روح کے پیدا کرنے والے کے بارے میں سوال کر رہے ہو کہ وہ کیس چیز سے بنا ہے .

یہ جواب سن کر وہ ملحد پریشان ہو گیا اور اپنا اگلا سوال کیا

سوال نمبر 3.
آپ مسلمان کہتے ہو کہ اللہ دیکھتا ہے ہر طرف تو وہ کیسے دیکھتا ہے اور ابھی وہ کدھر دیکھ رہا ہو گا ؟

جواب .
بچے نے اسے کہا کہ تم نے کبھی تاریک کمرے میں موم بتی یا شمع جلائی ہے ؟؟ اس نے کہا ہاں ,بچے نے پوچھا اس کی روشنی کس طرف ہوتی ہے تو وہ شخص بولا ہر طرف بلکے وہ سارا کمرہ روشن کرتی ہے پھر بچے نے کہا اللہ آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے اسی طرح وہ بھی کائنات میں ہر طرف دیکھتا ہے
اس کے بعد اس نے اپنا اگلا سوال کیا

سوال نمبر 4.
جنت میں انسان کو کھانے پینے کے باوجود بھی کوئی حاجت پیش نہ آئے گی ایسا کیسے ممکن ہے ؟؟

جواب .
بچے نے کہا نو ماہ ماں کے پیٹ میں بھی بچہ کھاتا پیتا ہے اور اسے کوئی حاجت پیش نہی آتی ویسے ہی جنت میں بھی نہیں پیش آئے گی چاہے جتنا کھا لے,اللہ ان دونوں چیزوں پر قادر ہے

اب اس نے اپنا اگلا سوال کیا

سوال نمبر 5.
آپ مسلمان کہتے ہو کہ جہنم میں جہنمیوں کو آگ سے عزاب اور تکلیف دی جائے گی تو بلا جن تو آگ کے بنے ہیں ان پر آگ کا کیا اثر ہو گا ؟؟

جواب
بچے نے یہ سوال سنتے ہی زمین سے مٹی اٹھائی اور اس ملحد کے آنکھوں اور چہرے پر پھنک دی اور جس کی وجہ سے وہ ملحد درد سے شور مچانے لگا تو بچے نے کہا جب تم مٹی سے بنے ہو اور مٹی سے تمھیں تکلیف بھی ہوئی تو ایسے ہی جنوں کو بھی آگ سے تکلیف ہو گی.

ہہ سارے جواب سن کر مجمے میں موجود مسلمانوں نے اس بچے کو کاندھوں پر اٹھا لیا , اور اس طرح ایک ملحد کو اللہ نے ایک 11 سالا بچے سے ذلیل کروایا اور اس کے فتنتے کو کچلا

نوٹ: یہ واقعہ سوشل میڈیا پر حضرت امام جعفر صادقؒ کی طرف منسوب ہو کر مشہور ہے، تاہم اس مکمل شکل میں اس کا معتبر تاریخی حوالہ دستیاب نہیں۔ البتہ امام جعفر صادقؒ کے زنادقہ و ملحدین کے ساتھ عقلی مناظرات تاریخی و روایتی مصادر میں منقول ہیں۔ اس لیے ذیل کی تحریر کو ایک مشہور مناظرانہ حکایت کے طور پر پڑھا جائے، مستند تاریخی واقعہ سمجھ کر نہیں۔..

یہ بھی پڑھیں۔۔۔۔۔