چالیس سال اور اولاد
اس گھر میں رہنا ہے تو اندھے اور گونگےبن کر رہو، مر گئے تو ہم تمہارے لیے مغفرت کی دعا بھی نہیں کریں گے
چالیس سال دبئی اور انگلینڈ میں ملازمت کرنے والے پاکستانی کی سچی کہانی اب نہ گھر ہے نہ بیوی بچے ۔نہ دولت اور نہ واپس لندن جانے کی عمر
یہ بزرگ سمن آباد لاہور کا رہائشی ہے مگر آج کل لاہور کے ایک اولڈ ہوم میں زندگی کے دن بسر کررہا ہے
چالیس سال قبل یہ شادی کے دو سال بعد دبئی چلے گئے ، وہاں انہیں گورنمنٹ جاب ملی ، تیس سال یہ ملازمت کی خوب پیسہ بنایا
ان تیس سالوں میں لاہور کے درجن بھر چکر لگائے مگر ہفتہ دو ہفتے رکتے اور واپس اپنی نوکری پر پہنچ جاتے ۔
ان تیس سالوں میں انکے چار بچے ہوئے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ۔۔۔۔ بیوی بچوں کو دو کمروں کے مکان سے عالیشان بنگلے میں پہنچا دیا ، انہیں اعلیٰ تعلیم دلوائی دنیا کی ہر آسائش دی
پھر دبئی کی ملازمت سے باعزت ریٹائرڈ ہونے جو کچھ ملا بیوی بچوں کو بھجوا دیا
اور خود ویزا لگوا کر انگلینڈ چلے گئے دس سال وہاں کام کیا
ہوٹلوں میں برتن بھی دھوئے اور عام مزدوی بھی کی نہ دن دیکھا نہ رات بچوں کا مستقبل اچھا بنانے کے چکر میں کولہو کے بیل کی طرح جتے رہے
اور پھر کچھ سال قبل پاکستان واپس آگئے
مگر اب کے آئے تو ماحول ہی اور تھا جو بیوی انہیں دنیا کا حسین ترین مرد کہتی تھی وہ اب انکے سائے سے بھی ڈرنے لگی
یہ کسی بات پر روکتے ٹوکتے تو بیوی اور بچے سب ایک ساتھ مقابلے پر آجاتے ، بیوی انکا منہ دیکھنا گوارا نہ کرتی
اس نے بچوں کی تربیت ایسی کی کہ وفا اور پیار یا احترام نام کے الفاظ انکی لغت میں ہی نہ تھے ۔
اب انہیں طعنے ملتے ، سارا دن پلنگ توڑے ہو، نہ کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے ، اس گھر میں رہنا ہے تو گونگے اور اندھے بن کر رہو ، تم نے ہم پر احسان نہیں کیا ہر باپ اپنی اولاد کے لیے ہی سب کچھ کرتا ہے ۔
تم مر گئے تو ہم تمہاری قبر پر تو کیا آئیں گے تمہاری مغٖفرت کے لیے دعا بھی نہیں کریں گے ۔۔۔۔۔۔
اس طرح کی سینکڑوں باتیں سن سن کر جب انکے کان پک گئے تو ایک روز انہوں نے چپ چاپ گھر چھوڑا ایک دوست کی مدد سے اولڈ ہوم پہنچے اور اب یہاں دن بسر کررہے ہیں ۔
مگر ان کو آج بھی امید ہے کہ انکے بچوں کو غلطی کا احساس ہو گا اور وہ انہیں لینے ضرور آئیں گے انہیں بچوں سے بہت محبت ہے اس لیے کوئی بھی شکوہ کیے بغیر انکے ساتھ اپنے گھر چلے جائیں گے
رب جانے اس بزرگ کی یہ آس امید کبھی پوری ہو گی یا نہیں ؟
