سسرال اور بہو
پاکستانی معاشرے میں بہو بننا صرف ایک رشتہ نہیں،
ایک پوری ذمہ داری بن جاتا ہے۔
شادی کے بعد ایک لڑکی صرف شوہر کا گھر نہیں اپناتی،
بلکہ ایک نیا خاندان، نئے اصول، نئی روایات اور لوگوں کی نئی توقعات بھی اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے۔
اکثر بہو سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سب کو خوش رکھے،
گھر کے کام کرے،
بڑوں کا خیال رکھے،
شوہر کی ہر بات سمجھے،
بچوں کو سنبھالے
اور پھر بھی اس کے چہرے پر تھکن نظر نہ آئے۔
وہ صبح سب سے پہلے اٹھتی ہے اور رات سب کے بعد سوتی ہے،
مگر اس کی محنت کو اکثر
"یہ تو گھر کا کام ہی ہے"
کہہ کر معمولی سمجھ لیا جاتا ہے۔
سب سے مشکل بات یہ ہوتی ہے کہ بہو سے غلطی کی گنجائش بہت کم رکھی جاتی ہے۔
ایک چھوٹی سی غلطی بھی
اس کے کردار، تربیت اور میکے تک پہنچ جاتی ہے،
جبکہ اسی گھر میں دوسروں کی غلطیوں کو کبھی کبھی آسانی سے نظر انداز کر
دیا جاتا ہے۔
لیکن ہر بہو بھی کسی کی بیٹی ہے۔
وہ بھی اپنے ماں باپ کا گھر، اپنی عادتیں اور اپنی آزادی چھوڑ کر ایک نئے گھر میں آتی ہے۔
اسے بھی محبت، عزت، وقت اور اپنائیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
ساس اگر بہو کو بیٹی سمجھ کر سکھائے،
بہو ساس کو ماں جیسا احترام دے،
اور شوہر دونوں کے درمیان انصاف اور سمجھداری سے کھڑا ہو
تو گھر میدانِ جنگ نہیں بلکہ سکون کی جگہ بن سکتا ہے۔
بہو سے فرشتہ بننے کی توقع نہ رکھیں، اسے انسان سمجھیں۔
وہ بھی تھکتی ہے،
اسے بھی دکھ ہوتا ہے،
وہ بھی کبھی غلط ہو سکتی ہے۔
ایک خوشحال گھر وہ نہیں جہاں بہو ہر وقت خاموش رہے،
بلکہ وہ ہے جہاں بہو کو بولنے، مسکرانے، غلطی کرنے اور اپنی جگہ بنانے کا حق بھی دیا جائے
یہ بھی پڑھیں۔۔۔
