دہشت گردی کے خلاف جنگ یا وسائل پر قبضہ
فرانس دنیا میں سونے کے ذخائر کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر ہے
اور اس کے پاس تقریباً 2436 ٹن سونا موجود ہے
جس کی مالیت اربوں ڈالر بنتی ہے
مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ فرانس میں ایک بھی بڑی سونے کی کان نہیں
دوسری طرف “مالی” افریقی ملک ہے جو سونے کے ذخائر سے مالا مال ہے،
وہاں 860 کے قریب سونے کی کانیں ہیں
جو ہر سال تقریباً 50 ٹن سونا پیدا کرتی ہے
لیکن مالی کے پاس کوئی بڑا سونے کا قومی ذخیرہ نہیں۔۔۔۔ ایسے کیسے؟؟؟
کیونکہ مالی میں زیادہ تر کانیں اور سونے کی پیداوار پر قبضہ فرانسیسی یا غیر ملکی کمپنیوں کا ہے
جو سونا نکال کر اپنے ملکوں کو بھیج دیتی ہیں ،
بدلے میں مالی اور وہاں کے لوکل بڑوں کو معمولی فائدہ ملتا رہتا ہے
فرانس کا مالی میں "دہشتگردی کے خلاف جنگ" کے بہانے موجود ہونا مالی کے بڑوں کئلیے ایک ڈھال ہے تاکہ وہ ذاتی مفادات کو محفوظ اور قدرتی وسائل پر اپنی نام نہاد اجارہ داری اور قبضہ برقرار رکھ سکیں
دنیا میں بہت سی ریاستوں کے پاس سونا تو ہوتا ہے لیکن اس پر اختیار نہیں ہوتا
یعنی سونا ہمارا، اختیار کسی اور کا
سارا سونا غیر ملکی کمپنیاں نکال کر اپنے ملک لے جاتی ہیں
دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر
حقیقت یہ ہے کہ اصل جنگ وسائل پر قبضے کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں۔۔۔۔
