The wisdom of Iran

GR SONS

 

ایران کی حکمت 




امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ
نے ایران کے خلاف جو جنگ شروع کی ہے، وہ انہوں نے United States Senate سے
باقاعدہ اجازت لیے بغیر شروع کی۔

اب اسی جنگ کے اخراجات کے لیے وہ سینیٹ سے اربوں ڈالر کی منظوری مانگ رہے ہیں۔

مگر امریکی سینیٹر Bernie Sanders کا کہنا ہے
کہ ہم ٹرمپ کو اس “پردیسی جنگ” کے لیے مزید ایک ڈالر بھی نہیں دیں گے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ امریکہ کے لیے معاشی طور پر بہت مہنگی ثابت ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر ایران کے ایک ڈرون کی قیمت تقریباً 6 لاکھ روپے ہے، جبکہ اس ڈرون کو مار گرانے کے لیے جو میزائل استعمال کیا جاتا ہے اس کی قیمت تقریباً 11 کروڑ 20 لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔



دوسری طرف ایران نے اپنے ملک میں کئی ایسی ٹینکیں اور جنگی طیارے بھی رکھے ہوئے ہیں جو دراصل پلاسٹک یا نقلی ہیں اور جن کی قیمت صرف ایک سے دو ہزار روپے کے قریب ہے۔ اس وجہ سے امریکی فوج کے لیے اصلی اور نقلی اہداف میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جو ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہا ہے۔