استغفار کے فضائل
استغفار کے فضائل اور اہمیت (قرآن و سنت کی روشنی میں)
استغفار یعنی اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا اسلام کی ایک نہایت عظیم عبادت ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں بار بار استغفار کی ترغیب دی گئی ہے۔ جب بندہ اپنے گناہوں پر نادم ہو کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں معافی طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے اور اس کی زندگی میں برکتیں عطا فرماتا ہے۔ استغفار نہ صرف آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے بلکہ دنیا میں بھی بے شمار نعمتوں اور آسانیوں کا سبب بنتا ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت نوح علیہ السلام کی زبان سے فرمایا کہ اپنی قوم سے کہو اپنے رب سے استغفار کرو، بے شک وہ بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔ جب لوگ استغفار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آسمان سے خوب بارش نازل فرماتا ہے، مال اور اولاد میں اضافہ فرماتا ہے اور ان کے لیے باغات اور نہریں عطا کرتا ہے۔
(سورۃ نوح: 10، 11، 12)
اسی طرح قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس سے معافی مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں پاکیزہ اور خوشحال زندگی عطا فرماتا ہے۔
(سورۃ النحل: 97)
اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو استغفار کی برکت سے قوت اور طاقت میں اضافہ بھی عطا فرماتا ہے۔
(سورۃ ہود: 52)
اس طرح قرآنِ کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ استغفار کے ذریعے انسان کو گناہوں کی معافی، بارش کی رحمت، رزق میں برکت، مال و اولاد کی نعمت، باغات اور نہریں، خوشحال زندگی اور قوت و طاقت جیسی عظیم نعمتیں حاصل ہوتی ہیں۔
احادیثِ مبارکہ میں بھی استغفار کی بہت بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ خود کثرت سے استغفار فرمایا کرتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو ایک مجلس میں سو مرتبہ یہ دعا پڑھتے ہوئے سنتے تھے
رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
(سنن ابوداؤد: 1516)
رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص کثرت سے استغفار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے، ہر غم سے نجات عطا فرماتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔
(سنن ابوداؤد: 1518 ، ابن ماجہ: 3819)
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے سید الاستغفار کے بارے میں فرمایا کہ یہ سب سے افضل استغفار ہے۔ جو شخص اسے یقین کے ساتھ صبح یا شام پڑھ لے اور اسی دن اس کا انتقال ہو جائے تو وہ جنتی ہوگا۔
(صحیح البخاری: 6306)
استغفار کئی الفاظ کے ساتھ پڑھا جا سکتا ہے کیونکہ اصل مقصد اللہ تعالیٰ سے سچے دل کے ساتھ معافی مانگنا ہے۔ سب سے آسان اور عام استغفار “اَسْتَغْفِرُاللّٰه” ہے جس کا مطلب ہے کہ میں اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں۔
اسی طرح ایک جامع استغفار یہ ہے
اَسْتَغْفِرُاللّٰهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَيْهِ
اور سب سے افضل دعا سید الاستغفار ہے جو احادیث میں آئی ہے۔
استغفار ہر وقت پڑھا جا سکتا ہے، لیکن بعض اوقات اس کی خاص فضیلت بیان کی گئی ہے۔ جیسے نماز کے بعد استغفار پڑھنا سنت ہے، تہجد اور سحری کے وقت استغفار کرنا بہت افضل ہے، گناہ کے بعد فوراً استغفار کرنا چاہیے اور صبح و شام استغفار پڑھنا بھی بہت برکت والا عمل ہے۔ قرآنِ کریم میں متقین کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ سحر کے وقت استغفار کرتے ہیں۔
(سورۃ الذاریات: 18)
الغرض استغفار ایک ایسی عظیم عبادت ہے جو انسان کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ بنتی ہے، رزق میں برکت پیدا کرتی ہے، بارش کے نزول کا سبب بنتی ہے، مال اور اولاد میں اضافہ کا ذریعہ بنتی ہے، زندگی میں سکون اور خوشحالی عطا کرتی ہے، مشکلات اور پریشانیوں سے نجات دلاتی ہے اور انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی عطا کرتی ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ دن رات کثرت سے استغفار کرتا رہے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کثرت سے استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
یہ بھی پڑھیں۔۔۔۔
