آج کے دور میں انسان نے بے شمار سہولتیں حاصل کر لی ہیں، مگر انہی سہولتوں میں ایک چیز ایسی بھی ہے
جس نے انسان کو آہستہ آہستہ اپنا قیدی بنا لیا ہے اور وہ ہے موبائل فون۔
ہم جہاں بھی دیکھیں، لوگ سر جھکائے اپنی اسکرینوں میں گم نظر آتے ہیں۔ گھر میں بیٹھے ہوئے ہوں تو بھی موبائل، دوستوں کے ساتھ ہوں تو بھی موبائل، حتیٰ کہ کھانے کی میز پر بھی نظریں اسی چھوٹی سی اسکرین میں قید رہتی ہیں۔ باتیں کم اور اسکرول زیادہ ہو گیا ہے۔
یہ آلہ جو ہمیں دنیا سے جوڑنے آیا تھا، آہستہ آہستہ ہمیں اپنے اردگرد کے لوگوں سے دور کرنے لگا ہے۔ رشتے قریب ہوتے ہوئے بھی دور محسوس ہونے لگے ہیں۔
ہم آن لائن ہزاروں لوگوں سے جڑے ہوتے ہیں، مگر اپنے قریب بیٹھے ہوئے انسان سے بات کرنے کا وقت نہیں نکال پاتے۔
اصل مسئلہ موبائل فون نہیں، بلکہ اس کا بے جا استعمال ہے۔ اگر اسے ضرورت اور اعتدال کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہی آلہ علم، رابطے اور آسانی کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ لیکن جب یہی چیز ہماری توجہ، وقت اور سکون پر قبضہ کر لے، تو پھر یہ سہولت نہیں بلکہ قید بن جاتی ہے۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے ایک سوال کریں.
کیا ہم موبائل فون استعمال کر رہے ہیں، یا موبائل فون ہمیں استعمال کر رہا ہے؟
کاپی پیسٹ
یہ بھی پڑھیں۔۔۔
