دنیا کا سب سے زیادہ مصروف ہوئی اڈہ دبئی بند ہو گیا
سرکاری طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ دبئی انٹرنیشنل کے علاؤہ مختوم ایر پورٹ بھی بند ہو چکا۔ کل۔280 جہازوں کو واپس جانا پڑا۔ اس سے پہلے 250 جہازوں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ کرہ خاک کے مصروف ترین ہوائی اڈ ے ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے اندیشے سے صبح سویرے سے تاریکی میں ڈوبے پڑے ہیں۔
فضائی پروازوں کی دنیا نے یہ منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔
امارات ایر لائن بند،اتحاد ایر لائن اور قطر ایئر لائنز اب برسر زمین ہیں ۔ قطر کا فضائی راستہ معطل ہونے کے بعد دوحا کا ہوائی اڈہ بند پڑا ہے۔ عرب سرزمینوں میں ایرانی میزائل تیر رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک میں فضائی سرگرمیوں کا مکمل طور پہ خاتمہ ہے۔ ترکی نے بھی مشرق وسطیٰ اپنی ایر لائنز کو مکمل۔طور پہ روک دیا ہے۔بحرین ، عراق ،ایراں، اردن ، کویت ، اومان ، شام اور قطر کے لئے بھی پروازیں معطل۔ بڑش ائرویز کے آپریشن بھی متاثر ہوئے ہیں۔ پہلی بار دنیاکی منظر دیکھ رہی ہے۔
دبئ فقط ایک ہوائی اڈہ نہیں ،ممبئی سے لندن ، سنگاپور سے فرینکفرٹ اور نیروبی سے نیویارک جانے والے جہاز یہاں رکتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ سے گزرنے والی پروازیں اب بند ہیں ،تاخیر کا شکار ہیں یا ہزاروں میل کا زائد فاضلہ طے کرنے پہ مجبور ۔ انڈیگو نے نے الماتی کے لئے پروازیں روک دی ہیں ۔28
مارچ تک باکو،تاشقند اورطلبسی کے لئے بھی۔
پٹرول کی قیمت سو ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے اور فضائی کمپنیاں خوفناک گھبراہٹ میں مبتلا ہیں ایسے مسئلے کا وہ سامنا کر رہیں ، جس کا ان کے پاس کوئی حل نہیں۔کریں تو کیا کریں۔ نہ صرف فضائی سفر کی طوالت کا بحران ہے بلکہ آبنائے ہرمز کی بندش کا خطرہ بھی لاحق ہے، جہاں سے روزانہ دو کروڑ دس لاکھ بیرل تیل صنعتی ممالک کو پہنچتا ہے۔
ایک اور پہلو بھی ہے، جس پر ابھی بات نہیں ہورہی ۔امارات کی معیشت کا تمام تر انحصار فضائی رابطوں پہ ہے ۔
صرف تجارت نہیں، سیاحت کو بھی نہ سنبھلنے والا دھچکا لگے گا۔امارات کی معیشت کا تمام تر انحصار اس پر تھا کہ وہ ایک محفوظ سر زمین ہے۔ اب وہاں خوف اور تاریکی کا راج ہے۔
ایرانی حملے صرف امریکی اڈوں پر نہیں ہوئے۔ مشرق وسطیٰ کی ہر معیشت کو بھی لے ڈوبے۔ امارات والے یہ زخم نہیں بھولیں گے اور ایرانی کہیں گے کہ اس کے سوا ہم کیا کرتے۔امریکی کو تم نے اڈے کیوں فراہم کئے
یہ بھی پڑھیں۔۔۔۔
