Murder over property

GR SONS

 

جائیداد کی بھینٹ




سعودی عرب سے رمضان کی چھٹی پر گھر آنے والا نوجوان خاندانی جائیداد کے جھگڑے کی بھینٹ چڑھ گیا

ایک بھائی ، جو ***** کا رہنے والا تھا، سعودی عرب سے رمضان کے روزوں کے لیے چھٹی پر گھر آیا تھا۔ ایک خوش اخلاق، امن پسند اور نرم مزاج نوجوان تھا

بتایا جا رہا ہے کہ اس کے والد اور چچا کے درمیان جائیداد کا تنازع چل رہا تھا۔ آج ***بھائی اپنے چچا کے بیٹوں کے پاس گیا۔ اس نے بڑے تحمل سے کہا:

“جو تم چاہو، مجھے منظور ہے۔ بس سٹامپ کر دو، میں سب تمہیں دے دوں گا۔ فی الحال میرے والد سے کچھ نہ کہنا، خاموش رہو۔ جب وہ نہ رہیں گے تو سب کچھ تمہارے بچوں کو دے دوں گا، میں کوئی جھگڑا نہیں کروں گا۔”

سوچیں…

ایک نوجوان اپنے ہی حق سے دستبردار ہونے کو تیار تھا، صرف اس لیے کہ گھر میں سکون رہے۔

چچا نے تو بات سن لی، مگر چچا کے بیٹوں نے نہ مانی۔ بات بڑھ گئی، تکرار ہوئی، اور پھر اچانک بندو۔ق اٹھا لی گئی۔ چند لمحوں میں سب کچھ ختم ہو گیا۔ رستم خان کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

پولیس نے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، لیکن اب کیا فائدہ؟ ایک گھر کا بیٹا دفن ہو گیا،

دوسرے گھر کے بیٹے جیل پہنچ گئے۔ دونوں خاندان اجڑ گئے۔

عورتیں بیوہ ہو گئیں، بچے یتیم ہو گئے، ماں باپ اولاد سے محروم ہو گئے۔

یہ صرف ایک قتل نہیں… یہ ایک خاندان کی تباہی کی کہانی ہے۔ جائیداد کے چند کاغذوں نے زندگیاں چھین لیں۔

اللہ *** بھائی کی مغفرت فرمائے، اس کے اہلِ خانہ کو صبر دے، اور ہمیں یہ سمجھ عطا کرے کہ زمین کے چند ٹکڑوں کی خاطر رشتوں کا خون نہ کریں۔
اللہ بھائی کی مغفرت فرمائے

کاپی پیسٹ

یہ بھی پڑھیں۔۔۔