America top priority

GR SONS

 

امریکہ کی اولین ترجیح




امریکہ اب جنوبی کوریا سے اپنے THAAD اور پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم ہٹا کر مشرقِ وسطیٰ بھیج رہا ہے۔

یاد رہے کہ 2017 میں جنوبی کوریا نے امریکہ کا THAAD میزائل سسٹم اپنے ملک میں نصب کروانے کے لیے چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی خراب کر لیے تھے۔

کیونکہ چائنہ اس ڈیفنس سسٹم کو اپنی سلامتی کیلیے خطرہ سمجھتا تھا، امریکہ اس نظام کے زریعے چین کی سرزمین کے اندر تک نظر رکھ سکتا تھا۔

چین کا خیال تھا کہ امریکی ڈیفنس سسٹم کا جنوبی کوریا میں نصب کرنے کا مقصد صرف شمالی کوریا سے تحفظ نہیں ہے بلکہ چین کی نگرانی کرنا ہے۔

کوریا کےاس عمل کے بعد چین نے سخت ردعمل دیا تھا۔

چین نے جنوبی کوریا جانے والے سیاحتی گروپ ٹورز پر پابندی لگا تھی جس سے جنوبی کوریا کو پندرہ ارب ڈالرز سے زیادہ نقصان ہوا تھا۔

چین میں کے پاپ (K-Pop) یعنی جنوبی کوریا کی موسیقی اور تفریحی صنعت پر بھی پابندی لگا دی گئی۔

کوریا کے Lotte Group کے ریٹیل سٹورزکو چین میں بند کر دیا گیا تھا کیونکہ اسی گروپ نے THAAD کیلیے زمین فراہم کی تھی۔

جنوبی کوریا کی بڑی کار کمپنیز ہنڈائی (Hyundai) اور کِیا (KIA) کو چین میں اپنی فیکٹریاں بند کرنا پڑی تھیں

اور وہاں ان کا بڑا مارکیٹ شیئر ختم ہو گیا تھا۔

اس طرح مجموعی طور پر جنوبی کوریا کو چین کے ساتھ تجارت اور برآمدات میں اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑاتھا۔

یہ سب کچھ جنوبی کوریا نے صرف اس لیے برداشت کیا تھا کہ امریکہ اپنے THAAD اور پیٹریاٹ دفاعی نظام وہاں نصب کرنا چاہتا تھا۔

لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ امریکہ وہی دفاعی نظام جنوبی کوریا سے ہٹا کر مشرقِ وسطیٰ منتقل کر رہا ہے۔

یعنی جس چیز کے لیے جنوبی کوریا نے اتنی بڑی قیمت ادا کی، وہ نظام اب وہاں سے ہٹایا جا رہا ہے۔

مطلب امریکہ نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے اسکی اولین ترجیح اسکے باقی اتحادی نہیں بلکہ صرف اور صرف اس-ر.ائیل کا تحفظ ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔