برايان جونسون کون ہے
50 سالہ نوجوان
انسان صدیوں سے آبِ حیات کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ کبھی اس نے کیمیا گری کے دیگچے چڑھائے، کبھی جڑی بوٹیوں میں امرت ڈھونڈا اور کبھی سائنس کی تجربہ گاہوں میں بڑھاپے کو شکست دینے کی تدبیریں کیں۔ مگر اکیسویں صدی میں یہ تلاش ایک نئے چہرے کے ساتھ سامنے آئی، ایک ایسے شخص کی صورت میں جس نے اپنی پوری زندگی کو تجربہ گاہ بنا دیا۔
یہ ہیں برايان جونسون (Bryan Johnson)، پیدائش 22 اگست 1977، امریکی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت (tech entrepreneur) اور کمپنی Braintree کے بانی۔ عمر اگرچہ 50 کے قریب پہنچ رہی ہے، مگر خواب یہ ہے کہ ان کا جسم حیاتیاتی اعتبار سے 18 برس کے نوجوان جیسا ہو جائے۔
وہ دولت کمانے کے بعد دولت سے آگے نکل جانا چاہتے ہیں۔ سالانہ تقریباً 2 ملین ڈالر اپنے منصوبے Blueprint پر خرچ کرنا کسی عام انسان کا فیصلہ نہیں۔ یہ رقم نہ محلات پر خرچ ہو رہی ہے، نہ سمندری جہازوں پر، بلکہ دل کی دھڑکنوں، خون کے خلیوں اور خلیاتی عمر (biological age) کے حساب کتاب پر۔
ان کی صبح رات کے سناٹے میں کھلتی ہے۔ ساڑھے چار بجے بیداری، وہ وقت جسے ہماری روایت میں تہجد کا وقت کہا جاتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جدید طب بھی اس وقت کے جاگنے کو غیر معمولی فائدہ مند قرار دیتا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ سحر خیزی (early rising) جسم کے سرکیڈین ردھم (circadian rhythm) کو متوازن کرتی ہے، کورٹیسول (cortisol) کی فطری افزائش کو ہم آہنگ بناتی ہے، ذہنی یکسوئی بڑھاتی ہے اور سوزش (inflammation) کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ تہجد کے وقت بیداری، جب فضا میں سکون اور آکسیجن کی مقدار نسبتاً بہتر ہوتی ہے، اعصابی نظام کو سکون اور دل کی صحت کو استحکام عطا کرتی ہے۔ یوں ایک روحانی لمحہ سائنسی فائدے میں ڈھل جاتا ہے۔
برايان جونسون کی زندگی گھڑی کی سوئیوں سے نہیں، الگورتھم (algorithm) سے چلتی ہے۔ ان کی غذا ایک محدود وقفے میں مکمل ہو جاتی ہے، صبح گیارہ بجے سے پہلے آخری نوالہ۔ دن بھر میں درجنوں نہیں بلکہ سو کے قریب سپلیمنٹس، وٹامنز، منرلز، اینٹی آکسیڈنٹس، گویا جسم ایک سافٹ ویئر ہو جس کی کوڈنگ مسلسل اپڈیٹ ہو رہی ہو۔
انہوں نے اپنے گرد تقریباً 30 ڈاکٹروں اور ماہرین کی ٹیم جمع کر رکھی ہے۔ ہر عضو کی پیمائش، ہر ہارمون کی جانچ، ہر خلیے کی نگرانی۔ دل کی عمر، جلد کی لچک، پھیپھڑوں کی گنجائش، سب کچھ اعداد و شمار کی صورت میں ان کے سامنے ہوتا ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے دل کی حیاتیاتی عمر 37 برس کے شخص جیسی ہے، جلد 28 سالہ نوجوان جیسی اور پھیپھڑے 18 سالہ لڑکے کے برابر۔
مگر سب سے زیادہ حیرت انگیز تجربہ وہ تھا جب انہوں نے “young plasma transfusion” آزمایا، اپنے نوعمر بیٹے کا پلازما اپنے جسم میں منتقل کروایا، اس امید پر کہ جوان خون کی تازگی بڑھاپے کی رفتار کم کر دے گی۔ بعد ازاں انہوں نے خود اعتراف کیا کہ اس تجربے سے کوئی نمایاں فائدہ ثابت نہ ہو سکا اور اسے ترک کر دیا۔ مگر ان کی جستجو رکی نہیں۔
ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ یہ سب موت کے خوف کا اظہار ہے، ایک دولت مند انسان کی بے بسی جو فنا کے قانون سے لڑنا چاہتا ہے۔ مگر جونسون خود کو “future human” کا معمار کہتے ہیں، وہ انسان جو بڑھاپے کو بیماری سمجھ کر اس کا علاج تلاش کرے گا۔
سوال یہ ہے کہ کیا بڑھاپا واقعی ایک بیماری ہے؟ یا یہ فطرت کا وہ قانون ہے جس کے بغیر زندگی کا حسن ادھورا ہے؟ سائنس ابھی فیصلہ کن مرحلے پر نہیں پہنچی۔ حیاتیاتی عمر (biological age) کے پیمانے موجود ہیں، مگر انہیں مطلق سچ نہیں کہا جا سکتا۔ خلیاتی سطح پر بہتری ممکن ہے، مگر وقت کی رفتار کو مکمل روک دینا ابھی انسانی دسترس سے باہر ہے۔
پھر بھی، اس کہانی میں ایک سبق ضرور ہے۔ سحر خیزی، منظم غذا، باقاعدہ ورزش، نیند کی پابندی، یہ سب وہ اصول ہیں جن کی تعلیم ہمیں صدیوں سے دی جاتی رہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کسی نے انہیں روحانیت کے زاویے سے اپنایا اور کسی نے ڈیٹا، گراف اور سائنس کی زبان میں۔
“50 سالہ نوجوان” دراصل ایک سوال ہے، کیا جوانی صرف عمر کا نام ہے یا طرزِ زندگی کا؟ کیا ہم وقت کو شکست دینا چاہتے ہیں یا وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا؟
شاید اصل راز اسی توازن میں پوشیدہ ہے۔ فنا کو جھٹلایا نہیں جا سکتا، مگر صحت مند اور باوقار زندگی ضرور اختیار کی جا سکتی ہے۔ اگر تہجد کے وقت کی بیداری، نظم و ضبط اور سائنسی شعور ہمیں بہتر بنا سکتے ہیں، تو شاید یہی حقیقی شباب ہے، وہ شباب جو کیلنڈر کے اوراق سے نہیں، شعور اور طرزِ حیات سے جنم لیتا ہے۔(بحوالہ مصری جریدہ الیوم السابع)
یہ بھی پڑھیں۔۔۔۔
زیادہ پانی پینا صحت کے لیے کیسا ہے
