طلاق | Talaq

GR SONS



 اسکی شادی ہوئی اور تین ماہ میں طلاق ہو گئی۔ وہ فیملی اچھی نہیں تھی۔ 


والدین نے عدت کے بعد دوسری جگہ شادی کروا دی۔ 

وہ بندہ اپنے ماں باپ کی سنتا تھا۔ اس کی ماں اور بہن جو کہتی تھیں وہ سچ سمجھتا تھا، بیوی جو کہتی تھی وہ جھوٹ سمجھتا تھا۔ خود کی کوئی سوچ سمجھ ہی نہیں تھی۔ 


لڑکی اپنے والدین کے گھر آ گئی۔ کچھ عرصے بعد ۔ تو چھ ماہ تک کوئی پوچھنے بھی نہیں آیا۔ پھر سسرال نے ڈائریکٹ طلاق کے کاغذات بھجوا دیے۔ 


 لوگ طعنے مارتے ہیں اسے۔ بہت ڈپریس ہو گئی ہے وہ ، دوبارہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔ 


اب وہ کیا کرے؟ والدین اسکی پھر سے شادی چاہتے ہیں۔ دو بار کی طلاق کے بعد اچھے رشتے کیسے ملیں گے؟ شادی کے بغیر اکیلی اس معاشرے میں کیا کریگی؟ 


خواتین! یہ ہے وہ سیناریو۔ ۔ 

یہ ہے وہ مسئلہ جو آپ کی زہریلی پوسٹوں اور کامنٹس سے بن رہا ہے۔ 

آپ کے بغیر سوچے سمجھے مشورے، جو آپ نے اپنے حالات، اپنے تعصبات اور میڈیا کے شور میں خیالات بنائے ہیں، انکا نتیجہ ہے۔ 


فیمنزم اور رومانویت مل کر لڑکیوں کے ذہنوں کو اس طرح متاثر کر رہے ہیں کہ انکو حقیقی زندگی میں چیلنجز سے نمٹنا ہی نہیں آتا۔ وہ اپنی ہی خیالی دنیا میں مگن ہیں۔ ماں باپ کی سننا تو اس نسل نے ویسے کم کر دیا ہے۔ میڈیا، ٹک ٹوک، فیمنسٹ بیبیاں مل کر ان لڑکیوں کی جو ذہن سازی کر رہی ہیں، اس کے مطابق 


 جیسے ہی شادی ہوگی، خاوند اس کے ہر مسئلے کا حل نکالے گا

 اس پر شادی میں کوئی زمہ داری نہیں ہوگی۔

شادی صرف پھولوں کی سیج ہوگی، کوئی مشکل نہیں ہوگی

 شادی صرف خاوند سے ہوگی، خاوند کی جاب، والدین، گھر، دوست وغیرہ وہ سب چھوڑ دیگا۔ اور اسکی ناز برداری میں لگا رہیگا۔

 روپے پیسے کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، بس کھانا پینا، سونا اور موج مستی ہوگی۔


ان خیالات کے ساتھ جب لڑکی شادی میں داخل ہوتی ہے تو پہلے ہی دن سے اسکو خاوند اور اسکے والدین برے لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ انکی کہی ہوئی عام سی باتیں بھی اسکو قید میں جیلر کی ڈانٹ لگتی ہیں۔ 


خاوند سمجھاتا ہے تو دشمن لگتا ہے۔ رومینس کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے۔ اور اسکو لگتا ہے کہ اسکی شادی غلط لوگوں میں ہو گئی ہے۔ "فیملی ٹھیک نہیں تھی" یہ جملہ اوپر کہانی میں پھر پڑھیے (یہ سچی کہانی ہے، بس کچھ تبدیلی کی گئی ہے) ۔ ۔ 


کیسے ٹھیک نہیں تھی فیملی بھئی؟  

دراصل لڑکی اپنے پہلے سے سیٹ کردہ ذہن کے مطابق خاوند کو مسلسل چوبیس گھنٹے کے لیے انگیج کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ بہنوں اور ماں کو برا لگتا ہے۔ وہ بھی ردعمل دیتی ہیں۔ دونوں میں کھینچا تانی میں مرد جو کہ اکثر کیسز میں خود بھی ابھی ایک "بونترا ہوا" لڑکا ہی ہوتا ہے، کو کچھ سمجھ نہیں آتی کہ کس کا ساتھ دے کس کا نہ دے؟ 


آپ میں سے جو مرد حضرات کاروباری ہیں، بتائیں کہ آپ ایک کمپنی سے بیس سال سے سودا لے رہے ہیں، دوسری کمپنی آپکو اچانک آ کر بتائے کہ پہلے والے فراڈ ہیں، آپ صرف ہمارا مال خریدا کریں؟ تو آپ کیا کریں گے؟ اچانک بغیر وجہ کے بھروسہ کر لیں گے؟ ہرگز نہیں ۔ ۔ بلکہ نئی کمپنی کے کنڈکٹ پر مشکوک ہو جائینگے۔ ۔ ۔ ہاں، اگر نئی کمپنی اپنی پروڈکٹ اچھی کوالٹی، اچھی قیمت، اور اچھی سروس کے ساتھ مہیا کرے، اور مسلسل کچھ عرصے تک مہیا کرتی رہے تو ممکن ہے کہ آپ پہلے والی کمپنیوں کے ساتھ نئی کمپنی سے بھی مال لینا شروع کر دیں۔ 


ایسا ہی ایک سمجھدار لڑکا کرتا ہے۔ جوانی، جذبات، اور عاشقی میں اندھے ہونے کے باوجود ستر اسی فیصدی مرد انصاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ باقی تیس فیصد میں سے کچھ ماں اور بہنوں کی باتوں میں آ کر گھر توڑ بیٹھتے ہیں، یا پھر بیوی کی باتوں میں آ کر اپنے رشتے کھو بیٹھتے ہیں۔ 


مسئلہ یہ ہے کہ سمجھدار مرد جو آپ کا ساتھ نہیں دیتا، آپ کو لگتا ہے وہ صرف ماں اور بہن کی سنتا ہے۔ آپ کے سچ کو سچ نہیں مانتا۔ کاش کوئی آپ کو سمجھا دیتا کہ آپ کا خاوند آپ کا سچ جاننے کے باوجود ابھی بہنوں کو مارجن دے رہا ہوتا ہے، اور کہیں وہ بہنوں اور ماں کے سچ کے باوجود آپ کو مارجن دے رہا ہوتا ہے۔ 


غیر حقیقی توقعات ہی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے فیملی اچھی نہیں لگتی، حالانکہ نوے فیصدی ہر خاندان ایک جیسا ہوتا ہے، دس فیصد آئیڈیل کیسز ہوتےہیں، مگر انکی تہہ میں بھی کوئی نہ کوئی راز ہوتا ہے، اللہ ان خاندانوں سے بچائے (وہ صرف فکشن میں بیان کیے جا سکتے ہیں) 


پہلی طلاق فوری ہوئی۔ 

دوسری طلاق کچھ سال بعد۔ 


فرق دیکھیے۔ 

پہلی طلاق بھی معمولی وجہوں پر ہوئی تھی۔ اتنی فوری طلاق میں میں نے سو فیصد معمولی وجوہات یا انا کے مسائل دیکھے ہیں۔ 


دوسری طلاق میں بھی جو وجہ بیان کی گئی ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ لڑکے کو اپنی جانب کرنے کی کوشش پہلے روز سے شروع ہو گئی تھی۔ بالاخر ناکامی پر آخری حل تلاش کیا گیا کہ ناراض ہو کر گھر آ گئی۔ ۔ ۔ سیانی عورت! اگر ناراضگی کا ہتھیار استعمال کرنا ہو تو پہلے اپنے آپ کو ناگزیر بناتے ہیں۔ ۔ اور لکھ لو، پھوہڑ عورت کبھی اپنے آپ کو ناگزیر نہیں بنا سکتی۔ ۔  وہ چھ ماہ منانے نہیں آئے تو مان لو کہ تم نے اپنے آپ کو ناگزیر نہیں بنایا۔ 


اب کیا کرنا ہے؟ 

دو طلاقوں کے بعد آپشنز محدود تر ہو چکے ہیں۔ ایک ایسا گھرانا جو ائیڈیل ہو ملنا مشکل ہے۔ کوئی ڈھنگ کا بندہ اس کمپرومائز پر آ بھی جائے تو آپ کو بھی کچھ کمپرومائز کرنے پڑیں گے۔ وہ مرد کی عمر ہو، اسٹیٹس ہو، عادات ہوں، یا پھر شکل و صورت، قد ، حلیہ وغیرہ ۔ ۔ 


تو باقی لڑکیوں کے لیے سبق کیا ہے؟ 

احتیاط کریں، اور ان آنٹیوں کی باتوں میں مت آئیں جو کہتی ہیں کہ ساس کی خدمت آپ پر فرض نہیں ہے۔ ان آنٹیوں نے اپنے گھر جو بچا رکھے ہیں، بالکل ساس کی خدمت کر کے بچائے ہیں۔ مگر اپنے اندر زہر بھر کر اب اپنی ہی بیٹیوں کے کانوں میں انڈیل رہی ہیں ۔ ۔ کہ میری بیٹی کے ساتھ ایسا نہ ہو ۔ ۔ ایسا کیا؟؟؟ بیٹی کی شادی نہ ہو؟ یا دو دفعہ (خدا نخواستہ) طلاق ہو جائے مگر بیٹی گھر نہ بسا سکے؟ 


یاد رکھیے، عورت جتنی جتنی آزاد ہو رہی ہیں، اتنی زیادہ عورتیں مرد کو آپشن میں مل رہی ہیں۔ 

غور تو کیجیے۔ ۔ ۔ دس سال پہلے مرد کو دوسری بیوی ڈھونڈنا بہت مشکل ہوتا تھا۔ ۔ ۔ آج کئی آزاد لڑکیاں اسکے وٹس ایپ کے ایک ٹچ پر دستیاب ہو چکی ہیں۔ ۔ ۔ ایسے میں گھر بسانا اور اپنے مرد کو سیکیور کرنا آپ کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ 


ضد اور انا کی جنگ لڑنا ہے تو کوئی بات نہیں۔ آپ کو بس اس زندگی کی ایک جھلک دکھلانا ہے۔ وہ دیکھ لیجیے۔ کسی بھی اکیلی رہتی آنٹی کے ساتھ کچھ دن خاموشی سے گذاریے، اور اسکے روز و شب نوٹ کیجیے۔ پھر وہ زندگی اچھی لگے تو ۔ ۔ ۔ بالکل مرد کو گالی دیجیے ۔ ۔ اور دفعان کیجیے۔