مہمان نوازی | aftari | mehman nawazi

GR SONS



 آفس میں کام کی زیادتی کی وجہ سے اٹھتے اٹھتے لیٹ ہوہی گیا، انتہائی ترین کوشش تھی کہ افطار گھر والوں کے ساتھ کرسکوں، اپنے آپ کو ریس ڈرائیور سمجھتے ہوئے بہت اسپیڈ بھی دکھائی مگر آخری لمحوں میں ٹریفک جام کی وجہ سے اب بھی گھر سے فاصلہ 20 یا 25 منٹ کا تھا اسی لمحہ ایف ایم پر اعلان ہوا کہ اب افطار میں صرف ایک منٹ رہ گیا ہے....


اپنے آپ کو سمجھاتے ہوئے کہ کوئی بات نہیں بیٹا زاہد،،، آج افطار روڈ پر ہی سہی، ادھر ادُھر دیکھتے ہوئے افطار کے لئے کوئی مناسب جگہ تلاش کرنے لگا، گھر پر فون پر اطلاع دی کہ آج ٹائم پر نہیں پہنچ سکوں گا، اور گاڑی سائیڈ میں پھل والوں کے پاس روک دی، آس پاس ازآنوں کی آواز آنے لگیں اور میں بھاگ کر ان پھل والوں کے پاس پہنچا جو چار پانچ مل کر اپنی ریڑھی کے پاس ہی چٹائی پچھا کر افطار کرنا شروع ہی ہوئے تھے-

جیب سے پیسے نکال کر ان سے کچھ کھجوریں طلب کیں تو ان میں سے ایک خان صاحب ناراض ہوتے ہوئے بولے... 

"او خوچہ افطار کا ٹائم ہے، تم امارا مہمان ہے، بابو صیب بُرا نا لگے تو تم ادھر امارے ساتھ ہی افطار کرو یارا"

میں انکے خلوص پر حیران ہوا اور شوز اتار کر وہیں آلتی پالتی مار کر چٹائی پر بیٹھ گیا،، خود کھانے سے زیادہ وہ مجھے دیتے رہے، روح افزا کا گلاس، لسی، کھجور، پکوڑے،،، اس لمحے اس ماحول میں یہ سڑک کنارے افطار اتنی مزیدار لگی کہ بیان سے باہر،، افطار کے بعد انہی کے ساتھ وہیں صف بچھا کر نماز کی ادائیگی کے بعد انکا شکریہ ادا کرکے جانے لگا تو ایک بزرگ خان صاحب نے بڑی محبت سے کہا کہ...

"بچہ،،، صبر، ام  نے  چینک منگایا اے یاررراا،،، وہ تم پی کر جائے گا تو ام گریب لوگ کا دل خوش ہوئے گا" چند لمحوں میں چائے بھی پہنچ گئی-

چائے پی کر میں شکریہ ادا کرکے جانے لگا اور کچھ پیسے دینے لگا تو خان صاحب نے کہا "او نہیں بچہ،،،، تم امارا مہمان ہے، مہمان تو خدا بھیجتا ہے بس دعا میں یاد رکھو"


گھر آتے ہوئے میں سوچنے لگا کہ یہ چھوٹی سی مختصر سی افطار پارٹی ان بڑی بڑی افطار پارٹیوں سے کتنی بہتر اور پرخلوص تھی جن میں ہم صرف اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بلا کر افطار انجوئے کرتے ہیں،  ان غریب لوگوں کے ساتھ افطار کرکے جس محبت اور خلوص کو میں نے دیکھا وہ کبھی کسی اور افطار ڈنر میں آج تک نہیں دیکھ سکا...