budget 2026-27

GR SONS

 


2027-2026پاکستان بجٹ برائے مالی سال




تعلیم، صحت، سائنس اور امدادی معیشت — پاکستان کی اصل ترجیحات کیا ہیں؟

اگر کسی بھی ملک کا مستقبل سمجھنا ہو تو صرف اس کی تقریریں نہیں بلکہ اس کا بجٹ دیکھ لیا جائے۔ کیونکہ بجٹ دراصل حکومت کی اصل ترجیحات کا آئینہ ہوتا ہے۔ الفاظ کچھ بھی ہوں، لیکن پیسہ جہاں خرچ کیا جاتا ہے وہی اصل سمت ہوتی ہے۔

اگر پاکستان کے حالیہ بجٹ میں تعلیم، صحت، سائنس اور سماجی امداد کے شعبوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو ایک انتہائی دلچسپ بلکہ تشویشناک تصویر 
سامنے آتی ہے۔




اعداد و شمار کے مطابق

اعلیٰ تعلیم (Higher Education) 
کے لیے تقریباً 46 ارب روپے مختص کیے گئے

اسکول اور کالج کی تعلیم کے لیے تقریباً 26.3 ارب روپے رکھے گئے

دانش اسکولز کے لیے 22 ارب روپے مختص کیے گئے

* صحت کے شعبے کے لیے تقریباً 25.1 ارب روپے رکھے گئے

 جبکہ سائنس اور ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبے کے لیے صرف 3.6 ارب روپے مختص کیے گئے

اگر ان تمام شعبوں کو جمع کیا جائے تو تعلیم، صحت اور سائنس کا مجموعی بجٹ تقریباً 123 ارب روپے بنتا ہے۔

اب دوسری طرف صرف ایک پروگرام کو دیکھیے


بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) 
838
 ارب روپے

یعنی پورے ملک کے اسکول، کالجز، یونیورسٹیاں، ہسپتال، تحقیقی ادارے اور سائنسی ترقی کے تمام منصوبے مل کر بھی اُس رقم کے قریب نہیں پہنچتے جو صرف ایک امدادی پروگرام پر خرچ کی جا رہی ہے۔

یہ فرق صرف اعداد و شمار کا نہیں بلکہ سوچ، پالیسی اور قومی ترجیحات کا فرق ہے۔

اصل سوال کیا ہے؟

سوال یہ نہیں کہ غریبوں کی مدد ہونی چاہیے یا نہیں۔ ظاہر ہے ایک فلاحی ریاست میں کمزور طبقے کی مدد ضروری ہوتی ہے۔ دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں کسی نہ کسی شکل میں سوشل سپورٹ پروگرام موجود ہوتے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ

کیا ایک ملک صرف امداد بانٹ کر ترقی کر سکتا ہے؟
کیا مستقل معاشی استحکام صرف سبسڈی اور کیش سپورٹ سے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
اور کیا تعلیم، تحقیق، سائنس اور صحت کو مسلسل نظر انداز کر کے کوئی قوم مضبوط بن سکتی ہے؟

یہاں اصل بحث ترجیحات کی ہے۔

فی کس بجٹ کا حیران کن موازنہ

اگر پاکستان کی تقریباً 24 کروڑ آبادی کے حساب سے ان بجٹس کو تقسیم کیا جائے تو صورتحال مزید واضح ہو جاتی ہے۔


صحت
صحت کے شعبے کے لیے فی پاکستانی سالانہ رقم تقریباً 104 روپے بنتی ہے۔
یعنی
 مہینے کے تقریباً 8 روپے
روزانہ چند پیسے
اتنی رقم میں تو شاید ایک عام درد کی گولی بھی مکمل نہ آئے۔


تعلیم
اعلیٰ تعلیم اور اسکول ایجوکیشن کو ملا کر فی پاکستانی سالانہ تقریباً 392 روپے بنتے ہیں۔
یعنی
* مہینے کے تقریباً 32 روپے
یہ رقم آج کے دور میں ایک معیاری پین یا کاپی کی قیمت سے بھی کم ہے۔


سائنس اور ٹیکنالوجی
سب سے زیادہ حیران کن صورتحال سائنس اور ٹیکنالوجی کی ہے۔
اس پورے شعبے کے لیے فی پاکستانی سالانہ صرف تقریباً 15 روپے بنتے ہیں۔

وہ دنیا جہاں

 مصنوعی ذہانت (AI)
 سپیس ٹیکنالوجی
کوانٹم کمپیوٹنگ
بائیو ٹیکنالوجی
روبوٹکس
سیمی کنڈکٹر انڈسٹری

پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں، وہاں ایک ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک میں سائنس کے لیے فی شہری صرف چند روپے مختص ہونا یقیناً ایک بڑا سوال ہے۔

دوسری طرف

جب قرضوں پر سود کی ادائیگی دیکھی جائے تو صورتحال مزید واضح ہو جاتی ہے۔


قرضوں پر سود
قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے تقریباً 8,054 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

یعنی ہر پاکستانی شہری
 سالانہ تقریباً 33,500 روپے
 صرف سود کی ادائیگی کا بوجھ اٹھا رہا ہے

گویا ایک بچہ جو ابھی اسکول بھی نہیں گیا، وہ بھی پیدائش کے ساتھ ہی قرضوں کے سود کا حصہ دار بن جاتا ہے۔


سول انتظامیہ
سول انتظامیہ اور بیوروکریسی کے اخراجات کے لیے تقریباً 1,071 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

یعنی
* فی پاکستانی تقریباً 4,460 روپے
یہ رقم دفاتر، انتظامی ڈھانچے، سرکاری اخراجات، پروٹوکول اور حکومتی سسٹم پر خرچ کی جاتی ہے۔

پھر سوال پیدا ہوتا ہے


ایک قوم آخر بننا کیا چاہتی ہے؟
کیونکہ

اگر تعلیم کمزور ہوگی تو مہارت کمزور ہوگی
اگر سائنس کمزور ہوگی تو صنعت کمزور ہوگی
اگر ریسرچ کمزور ہوگی تو ٹیکنالوجی درآمد کرنا پڑے گی
 اگر صحت کمزور ہوگی تو انسانی صلاحیت کمزور ہوگی

دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے امدادی پروگراموں سے زیادہ سرمایہ

تعلیم
ریسرچ
انڈسٹری
ٹیکنالوجی
یونیورسٹیوں
 لیبارٹریز
اور مہارتوں

پر لگایا۔

چین، جنوبی کوریا، جاپان، جرمنی اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے اپنی قوموں کو مستقل امداد لینے والا نہیں بلکہ پیداوار کرنے والا بنایا۔

امداد وقتی سہارا ہو سکتی ہے، مستقل نظام نہیں

سماجی امدادی پروگرام مکمل طور پر غلط نہیں ہوتے۔ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے دور میں کمزور طبقے کی مدد ضروری ہوتی ہے۔

لیکن اگر کسی معیشت کی بنیاد ہی مستقل امداد، سبسڈی اور کیش سپورٹ پر کھڑی ہو جائے تو پھر وہ معیشت پیداواری طاقت کھو دیتی ہے۔

ایک مضبوط ملک وہ ہوتا ہے جو

لوگوں کو نوکری دے
مہارت دے
صنعت دے
 کاروبار دے
تحقیق دے
 ٹیکنالوجی دے

نہ کہ صرف امدادی فہرستوں میں نام دے۔

اصل ترقی کیا ہوتی ہے؟

اصل ترقی تب ہوتی ہے جب

نوجوان لیبارٹری میں ہوں
یونیورسٹیاں تحقیق کر رہی ہوں
صنعتیں نئی ٹیکنالوجی بنا رہی ہوں
انجینئر نئی مشینیں ڈیزائن کر رہے ہوں
 ڈاکٹر جدید تحقیق کر رہے ہوں
 سائنسدان نئی ایجادات کر رہے ہوں

وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے نوجوانوں کو “امداد لینے” کے بجائے “قابل بنانے” پر سرمایہ لگاتی ہیں۔

نتیجہ

بجٹ صرف نمبروں کا کھیل نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک قوم کے مستقبل کا خاکہ ہوتا ہے۔

اگر کسی ملک میں
 تعلیم کمزور ہو
 سائنس کو نظر انداز کیا جائے
صحت پر کم خرچ ہو
ریسرچ کو اہمیت نہ دی جائے

تو پھر وہ ملک طویل مدت میں معاشی اور تکنیکی طور پر پیچھے رہ جاتا ہے۔

پاکستان کو بھی اگر مضبوط معیشت، جدید صنعت، عالمی ٹیکنالوجی اور حقیقی ترقی چاہیے تو صرف امدادی پروگراموں سے آگے بڑھ کر

تعلیم
سائنس
 ٹیکنالوجی
 ہنر
 تحقیق
اور صنعتی ترقی

پر سنجیدہ سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔

کیونکہ قومیں امداد سے نہیں، صلاحیت سے ترقی کرتی ہیں۔



پاکستان کے وفاقی بجٹ برائے مالی سال

2026-27 (جو 12 جون 2026 کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا) کا ایک
مکمل اور تفصیلی تجزیہ ذیل میں درج ہے۔

اس تحریر میں بجٹ کے اہم مالیاتی اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح، صحت، تعلیم، اوورسیز پاکستانیوں اور ٹیکس دہندگان (فائلر/نان فائلر) کے لیے کیے گئے اقدامات کو یکجا کیا گیا ہے تاکہ آپ کو ایک مکمل تصویر مل سکے۔

بجٹ 2026-27: ایک جامع اور تفصیلی جائزہ


1. دفاع، قرضوں کی ادائیگی اور مجموعی بجٹ کا حجم

کل حجم:
وفاقی بجٹ کا کل تخمینہ 18 ہزار 771 ارب روپے ہے۔

دفاعی بجٹ:
ملکی سلامتی اور دفاعی ضروریات کے لیے 3,000 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

قرضوں کا بوجھ:
بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ تقریباً 7,824 ارب روپے گزشتہ برسوں میں لیے گئے قرضوں پر سود کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے۔
یہ معیشت کا سب سے بڑا چیلنج ہے جس کے باعث ترقیاتی بجٹ محدود ہو جاتا ہے۔


2. سرکاری ملازمین اور تنخواہ دار طبقہ
تنخواہ و پنشن: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ
کیا گیا ہے۔

کم از کم اجرت:
مزدور طبقے کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 40,700 روپےمقرر کی گئی ہے
(10 فیصد اضافہ)۔

انکم ٹیکس سلیبس میں ریلیف:
تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کے لیے ٹیکس سلیبز کو 6 سے بڑھا کر 8 کر دیا گیا ہے۔

22 لاکھ سے 32 لاکھ آمدن پر ٹیکس 20 فیصد،
32 لاکھ سے 41 لاکھ پر 25 فیصد،
اور 41 لاکھ سے 56 لاکھ تک آمدن پر 29 فیصد ٹیکس ہوگا۔

اعلیٰ آمدنی والے طبقے پر عائد 9 فیصد انکم ٹیکس سرچارج کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، جو ایک خوش آئند قدم ہے۔


3. کاروباری طبقہ اور معاشی مراعات

سپر ٹیکس (Super Tax):
15 سے 50 کروڑ روپے تک کی آمدنی پر سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔

50 کروڑ سے زائد آمدنی پر یہ شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔

برآمدات اور آئی ٹی:برآمد کنندگان کے لیے کم از کم ٹیکس 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔
آئی ٹی اور فری لانسنگ کے لیے 0.25 فیصد 'فائنل ٹیکس رجیم' مزید 3 سال کے لیے برقرار ہے۔

کارڈز اور ہنڈی:غیر ملکی کرنسی میں کارڈ کے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے تاکہ قانونی ذرائع سے ادائیگیوں کو فروغ ملے۔


4. تعلیم، صحت اور سماجی بہبود

تعلیم:
92 لاکھ بچوں کو تعلیمی وظائف دینے کا ہدف ہے۔

صحت اور ادویات:
سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کے لیے فنڈز میں اضافہ کیا گیا ہے۔ بنیادی ادویات کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کی پالیسی برقرار رکھی گئی ہے تاکہ عام آدمی کو سستی صحت کی سہولت مل سکے۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP):
بجٹ میں 17 فیصد اضافہ کر کے اسے 838 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ کفالت پروگرام کا دائرہ کار 1.2 کروڑ خاندانوں تک بڑھایا گیا ہے۔

رہائش:
پی ایم اپنا گھر اسکیم' کے لیے 71 ارب روپے رکھے گئے ہیں تاکہ 5 فیصد فکسڈ مارک اپ پر گھر کے لیے قرض مل سکے۔


5. اوورسیز پاکستانیوں کے لیے اقدامات

اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت کی شہ رگ ہیں۔ ان کے لیے اہم اقدامات یہ ہیں:

بینکنگ ترغیبات:
ہنڈی حوالہ کی حوصلہ شکنی کے لیے بینکنگ چینل سے رقوم بھیجنے پر سرکاری اسکیموں میں ترجیح دی جائے گی۔

کسٹم رعایت:
بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ذاتی استعمال کی گاڑیوں اور گھر کا سامان لانے پر کسٹم ڈیوٹی میں مراعات برقرار رکھی گئی ہیں۔

انویسٹمنٹ اکاؤنٹس:
ڈیجیٹل انویسٹمنٹ اکاؤنٹس کے ذریعے حکومتی بانڈز اور رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری پر ٹیکس کی شرح کم رکھی گئی ہے تاکہ اوورسیز پاکستانی اپنی کمائی ملک میں محفوظ طریقے سے لگا سکیں۔


6. فائلر بمقابلہ نان فائلر: ایک اہم فرق

اس بجٹ میں فائلر بننے پر بہت زور دیا گیا ہے:

فائلر کے فوائد:
فائلر ہونے کی صورت میں بینک ٹرانزیکشن، گاڑی کی خرید، پراپرٹی کی منتقلی اور منافع پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح نان فائلر کی نسبت بہت کم ہے۔

نان فائلر کی مشکلات:
نان فائلرز پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح بہت زیادہ بڑھا دی گئی ہے۔ اگر آپ فائلر نہیں ہیں، تو آپ کا بینکنگ لین دین، گاڑی کی رجسٹریشن اور پراپرٹی کی خریداری بہت مہنگی پڑے گی۔

مشورہ:
معاشی تحفظ اور اضافی ٹیکسوں سے بچنے کے لیے ہر شہری کے لیے "فائلر" بننا اب ایک لازمی ضرورت بن چکا ہے۔


7. مہنگائی اور دیگر اہم نکات

پٹرولیم لیوی:
حکومت نے پٹرولیم لیوی کو 90 روپے تک لے جانے کی گنجائش رکھی ہے، جس کا مطلب ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں فوری ریلیف کا امکان کم ہے۔

یوٹیلٹی اسٹورز:
آٹا، چینی اور گھی پر سبسڈی کے لیے 65 ارب روپے رکھے گئے ہیں تاکہ غریب طبقے کو بنیادی اشیاء سستی مل سکیں۔

گاڑیاں:
درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 25 فیصد تک بڑھایا گیا ہے تاکہ مقامی صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔

ٹیکس ہدف:
ایف بی آر کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ٹیکس کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا۔

یہ بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط اور ملکی مالیاتی بحران کے درمیان ایک توازن کی کوشش ہے۔ جہاں حکومت نے تنخواہ دار طبقے اور برآمد کنندگان کو کچھ ریلیف دیا ہے، وہیں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے سخت اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں۔




یہ بھی پڑھیں۔۔۔