مایوس اور ناامید لوگوں کے لیے اللہ تعالٰی کا فرمان
کبھی انسان زندگی کی مصروفیات، پریشانیوں، آزمائشوں اور دنیا کے شور میں اس قدر کھو جاتا ہے کہ اسے محسوس ہونے لگتا ہے جیسے وہ اکیلا ہے
جیسے اس کی دعائیں سنی نہیں جا رہیں
، جیسے اس کے مسائل کا کوئی حل نہیں۔
ایسے لمحوں میں اگر بندہ قرآنِ مجید کھول کر دیکھے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا رب خود اس سے مخاطب ہے
اسے تسلی دے رہا ہے
اسے امید دے رہا ہے
اسے راستہ دکھا رہا ہے۔
قرآن صرف تلاوت کی کتاب نہیں، بلکہ یہ دلوں کی شفا، روح کی غذا اور زندگی کا مکمل دستور ہے۔
جب سورۃ یوسف کی یہ آیت سامنے آتی ہے
"میں تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نہیں چھوڑوں گا جنہوں نے تمہیں ٹھکرایا، بلکہ ایک دن تمہارا انجام اور مقام الگ ہوگا"
تو یہ ہر اس انسان کے لیے امید کا پیغام ہے جسے کبھی لوگوں نے کمزور سمجھا، نظر انداز کیا، دھتکارا یا اس کی صلاحیتوں کو نہ پہچانا۔
حضرت یوسفؑ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر حالات اندھیرے ہوں، اپنے بھی ساتھ چھوڑ جائیں، راستے بند ہوتے دکھائی دیں، تب بھی اللہ کے فیصلے بند دروازوں کے محتاج نہیں ہوتے۔ وہ کنویں سے نکال کر تخت تک پہنچانے والا رب ہے۔
پھر سورۃ البقرہ کی یہ عظیم آیت دل کو سکون دیتی ہے
"میرے بارے میں بندوں سے کہہ دو کہ میں کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ نہیں آزماتا"
یہ الفاظ ہر اس دل کے لیے سہارا ہیں جو مشکلات کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔
اگر آج زندگی امتحان لے رہی ہے، اگر معاشی پریشانیاں ہیں، رشتوں کے مسائل ہیں، بیماری ہے، تنہائی ہے یا دل کے اندر خاموش جنگ جاری ہے، تو یاد رکھو
اللہ تمہاری طاقت کو تم سے بہتر جانتا ہے۔ جس آزمائش میں تم ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے اندر اسے برداشت کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔
پھر سورۃ الضحیٰ کی یہ محبت بھری آواز بندے کے دل کو نئی زندگی دیتی ہے
"اور یقین جانو، تمہارا رب تمہارے قریب ہے، تمہیں اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے"
یہ آیت مایوسی کے اندھیروں میں امید کا چراغ ہے۔ جب دعائیں دیر سے قبول ہوں، جب محنت کا پھل نظر نہ آئے، جب لوگ بدل جائیں اور راستے مشکل لگنے لگیں، تب یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کی تاخیر انکار نہیں ہوتی، بلکہ بہترین وقت کا انتظار ہوتی ہے۔
وہ رب جب دیتا ہے تو صرف ضرورت پوری نہیں کرتا بلکہ دل بھی بھر دیتا ہے۔
قرآن کا ہر لفظ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔
ہمارا رب ہمارے آنسو بھی دیکھ رہا ہے
ہمارے دل کی بے آواز دعائیں بھی سن رہا ہے
اور ہمارے لیے وہ فیصلے کر رہا ہے جن کی حکمت ہم آج شاید نہ سمجھ سکیں، مگر کل انہی فیصلوں پر شکر ادا کریں گے۔
لہٰذا اگر زندگی مشکل لگ رہی ہے، اگر دل ٹوٹا ہوا ہے، اگر مستقبل دھندلا محسوس ہو رہا ہے، تو لوگوں کی آوازوں سے پہلے اپنے رب کی آواز سنو… کیونکہ جب اللہ بولتا ہے تو دل سنور جاتے ہیں، راستے روشن ہو جاتے ہیں اور تقدیریں بدل جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں۔۔۔
