PTA approved, JV or CPID

GR SONS

 

پی ٹی اے اپرووڈ، جے وی یا سی پی آئی ڈی






جے وی فون کی کہانی ۔۔ نقاب پوش ہیکر تک کا سفر ۔

ٹیلی کام کمپنیاں وہ ادارے ہیں جو ہمیں موبائل سگنلز،
کالنگ اور انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرتے ہیں، جیسے پاکستان میں جاز یا زونگ ہیں ۔
یہ کمپنیاں اپنی سم کے ذریعے ہمیں پوری دنیا سے جوڑے رکھتی ہیں اور نیٹ ورک کا نظام چلانے کی ذمہ دار ہوتی ہیں ۔

جس طرح پاکستان میں موبی لنک جاز، ٹیلی نار اور زونگ نیٹ ورک کی سہولیات فراہم کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جاپان میں سافٹ بینک 
SoftBank
 اور ڈوکومو 
Docomo

جبکہ امریکہ میں
AT&T, Verizon, T-Mobile 
بڑی ٹیلی کام کمپنیاں ہیں ۔

آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ اکثر باہر ممالک کے کٹ فون آن کرتے ہی شروع میں ان کمپنیوں کا نام یا لوگو نظر آتا ہے
کیونکہ یہ فونز انہی مخصوص کمپنیوں کے آرڈر پر تیار کیے گئے ہوتے ہیں۔


قسطوں پر موبائل فون خریدنے کا رواج صرف پاکستان تک
محدود نہیں بلکہ دنیا کے بڑے ترقی یافتہ ممالک میں بھی بہت
عام ہے ۔

یہ ٹیلی کام کمپنیاں اتنی بڑی ہوتی ہیں کہ وہ براہِ راست موبائل کمپنیوں کو لاکھوں یونٹس کا آرڈر دے کر اپنے مطابق فون تیار کرواتی ہیں اور ان میں اپنا خاص سافٹ ویئر ڈال دیتی ہیں ۔

یہ کمپنیاں موبائل انڈسٹری سے فون بنوا کر اپنے صارفین کو
آسان قسطوں پر فراہم کرتی ہیں ، لیکن اس میں شرط یہ ہوتی
ہے کہ اس موبائل میں صرف اسی مخصوص کمپنی کی سم چل
سکے گی ۔

کسی دوسرے نیٹ ورک کی سم قبول نہ کرنے کی وجہ سے
ایسے فونز کو '' سم لاک '' 
( SIM Locked )
فون کہا جاتا ہے ۔

یہ کمپنیاں ایپل اور سام سنگ جیسے بڑے برانڈز کو لاکھوں فونز کا آرڈر دے کر اپنے سافٹ ویئر کے ساتھ تیار کرواتی ہیں ۔
ان فونز کو قسطوں پر بیچنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ یوزر صرف
اسی مخصوص کمپنی کا نیٹ ورک استعمال کرے، اسی لیے ان میں دوسری سم نہیں چلتی ۔

--------------------------------------

 یہاں سے آغاز ہوتا ہے ایک بین الاقوامی کھیل یا دھوکے کا۔


ہوتا یہ ہے کہ کچھ لوگ ان کمپنیوں سے قسطوں پر مہنگے فون حاصل کرتے ہیں اور پھر انہیں سستے ریٹ آگے بیچ دیتے ہیں،

اور کمپنی کو جھوٹ بول دیتے ہیں کہ فون چوری ہو گیا یا
گم ہو گیا ہے ۔
جب قسطیں ادا نہیں کی جاتیں تو وہ کمپنیاں ان فونز کو بلاک کر دیتی ہیں، پھر یہ فون کسی بھی نیٹ ورک کی سم نہیں چلا سکتے ۔۔جس کے بعد یہ فون اسمگل ہو کر دبئی جیسی مارکیٹوں میں پہنچ جاتے ہیں ۔

 یہاں سے اس کھیل کا ایک اور زبردست راؤنڈ شروع ہوتا ہے۔

موبائل کمپنیوں کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ فون کو اتنا
سیکیور اور لاک رکھا جائے کہ وہ کسی اور نیٹ ورک کی سم نہ
چلا سکے، لیکن یہیں سے ان '' نقاب پوش ' ' ہیکرز اور انجینئرز
کی گیم شروع ہوتی ہے جو روس ، ویت نام اور ترکی جیسے ممالک میں بیٹھے ہوتے ہیں۔


ان '' نقاب پوش '' ہیکرز کا اصل مقصد موبائل کی سیکیورٹی
دیوار میں سوراخ کر کے سم چلانے کا راستہ نکالنا ہے، جس کے لیے وہ دو مختلف طریقے اپناتے ہیں ۔۔

آئی فون کے لیے یہ ہیکرز (JV Chip)
تیار کرتے ہیں جو سسٹم کو دھوکہ دے کر عارضی طور پر نیٹ ورک بحال کر دیتی ہے۔

جبکہ اینڈرائیڈ فونز کے لیے یہ ایسے جدید ٹولز بناتے ہیں جن
کے ذریعے فون کو 
CPid
 کر کے اس کی شناخت 
(IMEI)
ہی بدل دی جاتی ہے۔

ان ہیکرز کا سب سے بڑا ہدف پاکستان، ترکی، انڈونیشیا اور
برازیل جیسے ممالک ہوتے ہیں جہاں موبائل فونز پر بھاری
ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں ۔

یہ لوگ ایسے سستے راستے نکالتے ہیں کہ مہنگے فونز ان ممالک
کے نیٹ ورک پر بغیر آفیشل ٹیکس دیے چل سکیں ۔



جب یہ فون پاکستانی مارکیٹ میں پہنچتے ہیں تو یہ پی ٹی اے 
(PTA)
سے منظور شدہ نہیں ہوتے۔

پی ٹی اے PTA
  وہ ادارہ ہے جو پاکستان میں تمام ٹیلی کام کمپنیوں کو کنٹرول کرتا ہے اور باہر سے آنے والے فونز پر ٹیکس وصول کرتا ہے۔

چونکہ ان فونز کا ٹیکس ادا نہیں ہوتا ، اس لیے یہ ہیکرز موبائل سافٹ ویئر میں کوئی '' چور دروازہ '' تلاش کرتے ہیں اور
فون کی سیکیورٹی توڑ کر اس کا حل نکال لیتے ہیں ۔

آئی فون کی سیکیورٹی سخت ہونے کی وجہ سے اسے مکمل ہیک
کرنا مشکل ہے ، اس لیے وہاں '' جے وی چپ '' 
(JV Chip)
کا سہارا لیا جاتا ہے ۔

یہ ایک چھوٹی سی چپ ہوتی ہے جو سم کے ساتھ موبائل میں
ڈالی جاتی ہے اور سسٹم کو یہ دھوکہ دیتی ہے کہ وہی مخصوص
نیٹ ورک کی سم لگی ہے جس پر فون لاک تھا ۔

یہ کام عارضی ہوتا ہے اور فون ری سیٹ کرنے پر دوبارہ لاک
ہو جاتا ہے ۔

دوسری طرف اینڈرائیڈ فونز میں '' سی پی آئی ڈی 
'' ( CPID )
کا طریقہ استعمال ہوتا ہے ۔

( سی پی آئی ڈی ۔ CPid. Carrier policy iD. )

 '' پیچ '' (Patch ) 
تو ایک عارضی حل ہے جو صرف سافٹ ویئر کی حد تک آئی ایم ای آئی (IMEI) 
بدلتا ہے،
لیکن
'' سی پی آئی ڈی '' ایک پکا کام ہے ۔

اس میں ہیکرز خفیہ ٹولز کے ذریعے فون کے مدر بورڈ کی
سیکیورٹی توڑ کر اندرونی خانے میں آئی ایم ای آئی نمبر اس
طرح بدل دیتے ہیں کہ سسٹم کو لگتا ہے یہ تبدیلی خود آفیشل کمپنی نے کی ہے ۔

پی ٹی اے PTA
 موبائل فون کی آئی ایم ای آئی نمبر سے ہی پہچان کرتا ہے کہ یہ فون پاکستانی ہے ٹیکس پیڈ ہے یا نہیں یا باہر سے آیا ہے ۔۔

سی پی آئی ڈی میں ہوتا یہ ہے کہ فون میں ،
کسی سستے یا ٹوٹے ہوئے فون کا ائی ایم ای ائی نمبر لگا دیتے ہیں ۔
ایسے فون کا ، کہ جس کا ٹیکس یہی کوئی
 1500/2000 تک
ہوتا ہے ۔

چونکہ باہر سے آنے والے فون کا پی ٹی اے کا افیشل ٹیکس
بہت زیادہ ہوتا ہے جو خود موبائل کی قیمت سے بھی کبھی کبھار بڑھ جاتا ہے ۔۔

سی پی آئی ڈی آفیشل ٹیکس کی بنسبت سستا کام ہوتا ہے ۔۔
سی پی آئی ڈی فون بھی اسی طرح سم چلا سکتے ہیں جیسے
آفیشل پی ٹی اے اپرووڈ ۔

اس لیے عموما آفیشل پی ٹی اے اپرووڈ فون مہنگے ہوتے ہیں اور
سی پی آئی ڈی سستے ۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ مارکیٹ میں ملنے والے یہ سستے فون
دراصل بین الاقوامی نیٹ ورکس کا حصہ ہوتے ہیں۔

جے وی (JV) 
فونز وہ ہیں جو باہر کے ممالک میں کمپنیوں سے قسطوں پر لیے جاتے ہیں اور پھر قسطیں ادا کیے بغیر آگے بیچ
دیے جاتے ہیں۔

چونکہ آئی فون کی سیکیورٹی بہت سخت ہے ،
اس لیے اسے '' جے وی چپ '' کے ذریعے عارضی طور پر
دھوکہ دے کر چلایا جاتا ہے ۔

دوسری طرف سی پی آئی ڈی
 (CPID) 
اینڈرائیڈ فونز کا وہ
حل ہے جس میں ہیکرز موبائل فون کے مدر بورڈ کے اندر
جا کر فون کی پہچان
 (IMEI) 
ہی بدل دیتے ہیں تاکہ وہ
پی ٹی اے کے ریکارڈ میں ایک سستا اور ٹیکس پیڈ فون نظر آئے ۔

یہ فون قسطوں کے فراڈ، اسمگلنگ اور ہیکنگ کے مختلف مراحل سے گزر کر دبئی کے راستے آپ تک پہنچتے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ یہ آفیشل پی ٹی اے اپرووڈ فونز سے بہت سستے ہوتے ہیں کیونکہ ان کا اصل ٹیکس حکومتی خزانے کے بجائے
ان چور راستوں کی نذر ہو جاتا ہے ۔


آپ کا فون آفیشل پی ٹی اے اپروڈ ہے یا سی پی آئی ڈی ۔

چیک کرنے کے لیے آپ پلے سٹور سے 
DVS 
نامی
ایپ ڈاؤن لوڈ کر لیں ۔

اپنے موبائل سے #06#* ڈائل کر کے آئی ایم ای آئی نمبر
اس ایپ کے اندر لکھیں ۔

وہاں دیکھیں کہ پی ٹی اے اپروڈ شو کرتا ہے تو ماڈل کون سا
لکھا آتا ہے ۔
اگر وہی ماڈل لکھا آ رہا ہے جو آپ کے ہاتھ میں ہے تو یہ
آفیشل پی ٹی اے اپرووڈ ہے ۔۔

اگر اس ایپ میں موبائل پی ٹی اے اپرووڈ تو شو ہو رہا ہے
لیکن موبائل کا ماڈل کوئی اور ہے ، تو یہ سی پی آئی ڈی فون ہے ۔



• کوشش کریں کہ جہاں تک ممکن ہو آفیشل پی ٹی اے اپرووڈ
فون ہی لیں تاکہ آپ کو بعد میں کسی قسم کی ٹینشن نہ ہو۔

ویسے تو مارکیٹ میں سی پی آئی ڈی اور جے وی فونز اپنی کم
قیمت کی وجہ سے دستیاب ہیں، لیکن ایک خریدار کے طور پر
آپ کو ان کے فرق کا علم ہونا چاہیے تاکہ آپ تمام پہلوؤں
کو دیکھ کر اپنے بجٹ کے مطابق فیصلہ کر سکیں ۔

کاپی پیسٹ

یہ بھی پڑھیں۔۔۔