انسان لالچی ہے
اصل میں چاندی نہیں، لالچ مارتا ہے ، مارکیٹ تو بس آئینہ ہوتی ہے۔
واقعی لالچ بری بلا ہے۔
چاندی پاکستان میں صرف ایک دھات نہیں رہی، وہ ایک اجتماعی نفسیاتی تجربہ بن گئی۔پچھلے دنوں اٹھارہ ہزار سے بیس ہزار روپے فی تولہ تک قیمت گئی، حالانکہ اصل مارکیٹ ویلیو تب 11500 فی تولہ تھی۔ عالمی مارکیٹ میں جیسے جیسے چاندی کی قیمت کے پَر لگے، ویسے ویسے پاکستانی مارکیٹ میں خرید و فروخت کی بھیڑ مچ گئی۔ لوگ خریدنے کے نکلے نہیں دوڑ پڑے۔ ایک دوسرے کو دیکھ کر، ایک دوسرے کے سے زیادہ امیر بننے کے لالچ کو پڑھ کر، بغیر سوچے سمجھے، بغیر حساب لگائے۔ اور پھر صرف چند دن کے اندر وہی چاندی 7 ہزار 8 سو روپے فی تولہ تک گری۔ اس دھکم پیل اور جلد بازی کا نتیجہ؟ فائدہ چند لوگوں نے اٹھایا، نقصان میں اکثریت کا حصہ رہا۔ یہ کوئی نئی کہانی نہیں، یہ انسانی ذہن کی پرانی بیماری ہے۔
مائنڈ سائنس اس رویے کو ہیَرڈ مینٹیلٹی کہتی ہے۔ یعنی جب انسان اپنا تجزیہ بند کر کے ہجوم کا دماغ ادھار لے لیتا ہے۔ این ایل پی میں اسے گروپ اینکرنگ کہا جاتا ہے، جہاں ایک جذباتی کیفیت پورے مجمع میں وائرس کی طرح پھیلتی ہے۔ ایک شخص کہتا ہے اوپر جا رہی ہے، دوسرا اس کی آواز میں جوش سنتا ہے، تیسرا خوف محسوس کرتا ہے کہ کہیں وہ پیچھے رہ نہ جائے، اور چوتھا بغیر جانے کہ وہ کیا کر رہا ہے، مارکیٹ میں کود جاتا ہے۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں لالچ عقل پر غالب آ جاتا ہے۔ نفسیات میں اسے فومو یعنی فیر آف مسنگ آؤٹ کہا جاتا ہے۔ انسان اصل میں نفع نہیں چاہتا، وہ یہ برداشت نہیں کر پاتا کہ کوئی اور اس سے آگے نکل جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک شخص اپنی جمع پونجی، اپنا گھر، اپنی گاڑی، جو اس نے برسوں کی محنت سے خریدی تھی، بیچ کر اچانک چاندی میں ڈال دیتا ہے، صرف اس لیے کہ اس نے فیس بک پر پڑھ لیا کہ کسی نے ایسا کیا اور آج اس کے پاس دوگاڑیاں اور ڈبل گھر خریدنے کے پیسے چاندی سے بنا لیے ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ وہ خبر کس وقت کی ہے، کس سیاق میں ہے، اور وہ شخص مارکیٹ کے کس مرحلے پر داخل ہوا تھا۔ بس وہ صرف تصویر دیکھتا ہے، پوری فلم نہیں۔
مارکیٹ کا ایک بنیادی اصول ہے جسے مائنڈ سائنس اور اکانومکس دونوں مانتے ہیں۔ ہر عروج کے بعد زوال آتا ہے، اور ہر زوال کے بعد عروج۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی چیز اپنے عروج پر ہوتی ہے تو عقل اندھی ہو جاتی ہے۔ پچھلے ہفتوں میں ماہرین، میٹنگز، اور مارکیٹ سروے واضح اشارے دے رہے تھے کہ بائیس، اٹھائیس، انتیس اور تیس جنوری کی تاریخیں حساس ہیں۔ بائیس کو مارکیٹ نیچے آئی، اٹھائیس کو میٹنگ ہوئی، انتیس کو مصنوعی باؤنس آیا، جو ہمیشہ اس بات کی نشانی ہوتا ہے کہ اب گراوٹ آئے گی۔ لیکن جو شخص جذبات میں ہو، وہ ان اشاروں کو نہیں دیکھتا۔ وہ صرف قیمت دیکھتا ہے، حقیقت نہیں۔
ماہرین کے مطابق جب کوئی مارکیٹ بغیر لاجک کے بھاگ رہی ہو، تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہاں بھگڈر مچ چکی ہے۔ یہ موومنٹ طاقت کی نہیں، خوف کی ہوتی ہے۔ مارکیٹ اوپر نہیں جا رہی ہوتی، لوگ نیچے گرنے سے ڈر رہے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہفتہ اور اتوار کو پاکستان کی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت خرید میں پانچ ہزار روپے کا فرق موجود رہا، اور لوگ پھر بھی چیخ رہے تھے کہ مجھے کلو دے دو، پانچ کلو دے دو، سولہ، پندرہ، چودہ ہزار پر ہمیں ابھی چاہیے۔ لیکن آج وہ آوازیں غائب ہیں، لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ لالچ ابھی زندہ ہے۔ آج بھی ایسے خریدار موجود ہیں، جن کے دماغ میں کسی نے بٹھا دیا ہے کہ یہ تو اوپر ہی جائے گی۔
یہاں ایک نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔ ہاں، چاندی طویل مدت میں اوپر جا سکتی ہے، مگر جس رفتار سے یہ گری ہے، اسی رفتار سے یہ دوبارہ بھی گر سکتی ہے۔ جو لوگ اس فرق کو نہیں سمجھتے، وہی لوگ ہر مارکیٹ میں زخمی ہوتے ہیں۔ پھر وہی زخمی لوگ ہسپتالوں کے چکر لگاتے ہیں، دل کے مریض بنتے ہیں، بلڈ پریشر بڑھاتے ہیں، اور بعض اوقات وہ فقرہ سچ ثابت ہو جاتا ہے جو پرانے لوگ کہتے تھے کہ سونے والا ہسپتال تک جاتا ہے، مگر چاندی کا رگڑا سیدھے قبر تک پہنچاتا ہے۔ یہ فقرہ حقیقت نہیں، مگر اس کے پیچھے جو ذہنی دباؤ اور جذباتی تباہی ہے، وہ حقیقت ہے۔
اسلام نے اسی رویے سے روکا ہے۔ قرآن میں بار بار جلد بازی، لالچ، اور بغیر علم کے قدم اٹھانے سے منع کیا گیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ نفع میں برکت امانت اور دیانت سے ہے، نہ کہ حرص سے۔ اسلامی تجارت کا اصول یہ ہے کہ علم کے بغیر سودا مت کرو، اور ایسے بازار میں داخل مت ہو جہاں تم صرف افواہوں کے سہارے کھڑے ہو۔ یہ محض مذہبی نصیحت نہیں، یہ نفسیاتی حفاظت ہے۔
مارکیٹنگ کے ایتھکس بھی یہی کہتے ہیں۔ جو شخص مارکیٹ میں کام کرنا چاہتا ہے، اسے ٹرینڈ کے پیچھے دوڑنے کے بجائے ٹرینڈ کو سمجھنا آنا چاہیے۔ مارکیٹ میں ہمیشہ تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ پہلے وہ جو پلاننگ سے داخل ہوتے ہیں، دوسرے وہ جو خبر سن کر داخل ہوتے ہیں، اور تیسرے وہ جو شور دیکھ کر کودتے ہیں۔ نقصان ہمیشہ دوسرے اور تیسرے کا ہوتا ہے۔
اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے چند بنیادی ذہنی اصول ہیں۔ کبھی بھی اس مارکیٹ میں داخل نہ ہوں جہاں آپ کو اس کی سمجھ نہیں آ رہی۔ کبھی بھی اپنی زندگی کی بنیادی ضرورتیں بیچ کر کسی ٹرینڈ میں نہ ڈالیں۔ کبھی بھی یہ فرض نہ کریں کہ جو آج اوپر ہے وہ کل بھی اوپر ہو گا۔ اور سب سے اہم، اگر سب لوگ ایک ہی سمت بھاگ رہے ہوں، تو رک کر خود سے سوال کریں کہ میں کیوں بھاگ رہا ہوں۔
یہ کالم چاندی کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ انسانی ذہن کے بارے میں ہے۔ مسئلہ دھات کا نہیں، مسئلہ دماغ کا ہے۔ جب دماغ لالچ کے قبضے میں آ جائے تو وہ سونا ہو یا چاندی، ہر چیز قبر کی طرف لے جاتی ہے۔ اور جب دماغ شعور میں ہو، تو وہی بازار، وہی چیزیں، زندگی کو سنبھالنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔
اصل سرمایہ چاندی نہیں، اصل سرمایہ سمجھ ہے۔
اور جو اس سمجھ کو بیچ دے، وہ آخرکار سب کچھ کھو دیتا ہے۔
کاپی پیسٹ
یہ بھی پڑھیں۔
