ادھار واپس لینے کا طریقہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اُدھار دیا ہوا پیسہ واپس کیسے ریکور کریں؟
(ریکوری نہ ہونا نقصان نہیں، خاموش تباہی ہے)
بزنس میں اُدھار دینا کوئی نئی بات نہیں
لیکن اُدھار واپس نہ آنا
بزنس کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
یاد رکھیں
بزنس نقصان سے کم مرتا ہے
اُدھار سے زیادہ مرتا ہے۔
اُدھار ریکور کیوں نہیں ہو پاتا؟ (اصل مسئلہ)
اکثر بزنس مین یہ کہتے ہیں: “کام تو بہت ہے، بس پیسہ پھنسا ہوا ہے”
اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے
بزنس کے شروع میں ہی بہت زیادہ اُدھار دے دینا
اصول بنانے کے بجائے لالچ میں آ جانا
ایک نہ دینے والے سے مزید دینے کی امید رکھنا
جو پیسہ شروع میں قابو میں نہ ہو
وہ بعد میں ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔
اُدھار دیتے وقت کی گئی وہ غلطیاں جو ریکوری مار دیتی ہیں
یہ وہ جگہ ہے جہاں بزنس خود اپنا نقصان کرتا ہے
بغیر لکھے اُدھار دینا
واپسی کی تاریخ طے نہ کرنا
ہر آنے والے کو قابلِ اعتبار سمجھ لینا
“بیچارہ ہے” کہہ کر حد توڑ دینا
یاد رکھیں
جو آج نہیں دے رہا
وہ نیا مال لے کر بھی نہیں دے گا۔
لالچ — ریکوری کا سب سے بڑا دشمن
یہ جملے آپ نے ضرور سنے ہوں گے
“بھائی، سب اکٹھا دے دوں گا”
“بس یہ آخری بار دے دو”
یہ سب لالچ کے جال ہیں۔
پچھلا اُدھار نکالنے کے لالچ میں
نیا اُدھار پھنسا دینا
بزنس کو ڈبو دیتا ہے۔
جو پہلے نہیں دے رہا، وہ مزید مال لے کر اچانک ایماندار نہیں بن جائے گا۔
ریکوری کا صحیح طریقہ: وعدہ، تحریر اور دباؤ
ریکوری ایسے نہیں ہوتی کہ
ایک فون کیا
خاموش ہو گئے
صحیح طریقہ یہ ہے
جس تاریخ کا وعدہ کرے، وہ لکھوائیں
سادہ کاغذ پر دستخط کروائیں
اسی تاریخ پر فون کریں
خود جا کر یاد دہانی کروائیں
ایک دو چکر نہیں
تین چار چکر لگانے سے
مردہ پیسہ بھی ہلنا شروع ہو جاتا ہے۔
شرم اور ڈر — بزنس مین کی خاموش دشمن
بہت سے لوگ پیسہ اس لیے نہیں مانگتے کیونکہ
شرم آتی ہے
تعلق خراب ہونے کا ڈر ہوتا ہے
یہ سوچ بزنس کو مار دیتی ہے۔
پیسہ مانگنا بے عزتی نہیں
اپنا حق لینا ہے۔
جو شرماتا ہے، وہ نقصان خود قبول کرتا ہے۔
قسطوں میں ریکوری — مگر اصول کے ساتھ
اگر کوئی کہے: “ایک ساتھ نہیں دے سکتا”
تو:
قسطوں میں پیسہ لیں
تھوڑا تھوڑا کر کے نکلوائیں
مگر ایک شرط لازمی:
نیا اُدھار بند
صرف پرانا نکالنا۔
وہ کسٹمر جو اُدھار لیتا ہے مگر کیش کہیں اور دیتا ہے
ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں:
آپ سے اُدھار لیتے ہیں
مگر دوسری جگہ کیش پر مال خریدتے ہیں
حکمتِ عملی یہ رکھیں
اسے مکمل بند نہ کریں
کیش پر مال دیں
ریٹ تھوڑا کم رکھیں
ساتھ ساتھ پرانا اُدھار قسطوں میں نکلوائیں
کسٹمر بھی رہے گا
سیل بھی ہوگی
اُدھار بھی نکلے گا
اُدھار نکل جائے تو سب سے بڑی غلطی کیا ہوتی ہے؟
سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ
دوبارہ اُدھار دے دیا جاتا ہے
یاد رکھیں
جو ایک بار ڈبو چکا ہو
اسے دوبارہ موقع دینا
نادانی ہے۔
اصول ایک بار ٹوٹا، دوبارہ آسانی سے ٹوٹ جاتا ہے۔
آئندہ کے لیے خود کو کیسے محفوظ کریں؟
اگر آپ چاہتے ہیں کہ دوبارہ نہ پھنسیے تو:
لالچ بزنس کو اوپر نہیں لے جاتا
ڈبو دیتا ہے۔
اُدھار:
رشتہ بچا سکتا ہے
مگر بزنس مار سکتا ہے
بزنس
ہمدردی سے نہیں
اصولوں سے چلتا ہے
اپنا حق مانگنے سے نہ شرمائیں
لالچ کے جال میں نہ پھنسیں
اور اُدھار کو قابو میں رکھیں
اگر یہ آرٹیکل آپ کو پسند آئے تو شیئر ضرور کریں
