کیا آپ کو معلوم ہے کہ اسرائیل میں بھی دینی مدارس قائم ہیں اور سرکار انہیں اربوں شیکل سالانہ امداد بھی ملتی ہے۔
پاکستان میں دینی مدارس پر ایک خاص مغرب زدہ طبقہ منفی تبصرے کرتا رہتا ہے لیکن اس طبقے کو علم نہیں کہ جن "استادوں" نے پاکستان میں دینی مدارس کے خلاف تبرہ بازی کا سبق انہیں پڑھایا وہ استاد خود اپنے دینی مدارس کو پوری سرکاری سرپرستی میں چلا رہے ہیں۔
اسرائیل میں کافی زیادہ یہودی مدارس قائم ہیں
ان مدارس کو حریدی یشیوا کہا جاتا ہے۔ حریدی انتہا پسند یہودیوں کا وہ فرقہ ہے جو آج بھی سختی سے مذہبی تعلیمات پر کاربند ہیں اور عام یہودیوں کی طرح جدید سیکولر طرز زندگی اختیار نہیں کرتے۔ کالے کپڑے، سر پر ٹوپی اور عورتیں مکمل باپردہ لباس پہنتی ہیں۔
ان یہودی مدارس میں طلباء کی تعداد وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق پونے دو لاکھ یہودی طلباء ان مدارس میں زیر تعلیم ہیں۔
جس طرح پاکستانی مدارس میں ابتدائیہ، ثانویہ، عالیہ وغیرہ مختلف درجے ہوتے ہیں
ان یہودی مدارس کے بھی درجے ہوتے ہیں۔
تاہم ان یہودی مدارس میں پڑھنے والے عمر بھر دینی سرگرمیوں میں ہی
مشغول رہتے ہیں۔
ابتدائی درجے میں 13 سے 18 سال کے بچوں کو داخل کیا جاتا ہے۔
اس درجے کو یشیوا کیتانا کہتے ہیں۔
اس کی تعلیم پانچ سال تک ہوتی ہے۔
اس میں تورات، تلمود کی تعلیم اور بنیادی یہودی تعلیمات فراہم کی جاتی ہیں۔
اس کے بعد کا مرحلہ یشیوا گیدولا کہلاتا ہے۔
یہ بھی تین سے پانچ سال ہوتا ہے۔
اس کے بعد ان میں سے کچھ لوگ ربی بن جاتے ہیں،
کچھ یہودی مدارس میں استاد لگ جاتے ہیں،
کوئی ان مدارس کے کسی اور معاملے سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔
اس کے بعد ایک اور درجہ ہے جس میں لوگ اپنی زندگیاں تورات اور تلمود کی تعلیمات کے لئے وقف کر دیتے ہیں۔
یہ عموما شادی کے بعد ہوتا ہے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے یہودی مدارس ہیں مخلوط تعلیم ہوتی ہو گی مرد عورتیں اکٹھے رہتے ہوں گے
مگر شاید آپ کو حیرت ہو کہ حریدی یہودی مردوزن کے اختلاط کے سخت
مخالف اور پردے کے پابند ہیں۔
یہ یہودی مدارس صرف مردوں کے لئے مخصوص ہیں۔
عورتوں کی مذہبی تعلیم کے لئے الگ سے انتظام ہے جہاں انہیں بنیادی دینی تعلیم کے ساتھ امور خانہ داری اور کچھ ہنر سکھائے جاتے ہیں۔
یہ سخت گیر یہودی مکمل داڑھیاں رکھتے ہیں، سر کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھتے ہیں۔
ان کی خواتین مکمل برقعوں میں ملبوس ہوتی ہیں۔
اس پوسٹ کے ساتھ کالے برقعوں والی خواتین حریدی یہودی خواتین ہیں نا کہ
مسلمان۔
پاکستانی کرنسی میں سالانہ ان مدارس کو 75 سے 80 ارب روپے تک سرکار سے امداد ملتی ہے جبکہ اس کے علاوہ دنیا بھر کے یہودی ان مدارس کو چندہ بھی دیتے ہیں۔
ان یہودی مدارس میں پڑھنے والے حریدی مسلک کے یہودیوں کو لازمی فوجی خدمات سے بھی استثنا حاصل ہے گو کہ ان کے گریجویٹ فوج میں ربی کی اسامیوں پر بھرتی ہوتے ہیں
تاکہ عام یہودی فوجیوں کو مذہبی تعلیمات سے جوڑے رکھیں۔
اسرائیل کا وزیراعظم نیتن یاہو دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ اسرائیل ایک لبرل ڈیموکریسی ہے
مگر خود سرکاری سرپرستی میں انتہا پسند مدارس کا پورا نیٹ ورک اسرائیل چلا رہا ہے
اور یہ سب کچھ مغرب کو مذہبی آزادی کے نام پر قبول ہے۔
آپ نے شاید ہی اسرائیل میں کوئی Madrassa Reforms Program دیکھا
ہو جس کے لیے مغربی این جی اوز فنڈنگ کرتی ہو۔
آپ نے کبھی یہودی خواتین کے برقعے کے خلاف کوئی مہم بھی نہیں دیکھی ہو گی۔
آپ کو مسلمانوں کے مدارس ہی نشانے پر ملیں گے۔
از قلم عبداللہ خان۔۔
لیکن ھر اسلام مخالف رویے آپکو اسلامی ممالک میں نظر آئیں گے۔۔۔
یہ بھی پڑھیں۔۔۔۔



