کھجور کی چند اقسام
کھجور کا مقام نبی ﷺ کی زندگی میں
یہ محض غذا نہیں تھی۔ یہ ایک سوچا سمجھا انتخاب تھا۔ سادہ۔ بامقصد۔
نبی ﷺ کی زندگی میں کھجور کی حیثیت۔
روزمرہ غذا
مدینہ میں کھجور عام تھی۔ سستی۔ مقامی۔ پیٹ بھرنے والی۔
آپ ﷺ وہی کھاتے تھے جو عام لوگ کھاتے تھے۔
روزہ افطار کرنے کی سنت
آپ ﷺ روزہ تازہ کھجور سے کھولتے تھے۔
اگر تازہ کھجور میسر نہ ہو تو خشک کھجور سے۔
اور اگر وہ بھی نہ ہو تو پانی سے۔
یہ ترتیب سادگی اور آسانی کا درس دیتی ہے۔
اعتدال
آپ ﷺ نے کبھی زیادتی نہیں کی۔
اچھی چیز بھی حد میں رہ کر۔
روحانی معنی
سادہ غذا۔ گہرا شکر۔
کھجور یاد دلاتی ہے کہ کم نعمت بھی کافی ہو سکتی ہے۔
رمضان میں کھجور کیوں فائدہ مند ہے۔
فوری توانائی
کھجور میں قدرتی شکر ہوتی ہے۔
یہ روزے کے بعد جسم کو نرمی سے توانائی فراہم کرتی ہے۔
آسان ہضم
طویل فاقے کے بعد معدہ ہلکی غذا چاہتا ہے۔
کھجور بوجھ نہیں بنتی۔
نمکیات کی بحالی
اس میں پوٹاشیم اور میگنیشیم موجود ہوتے ہیں۔
یہ کمزوری اور کھچاؤ کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
مقدار پر قابو
ایک یا تین کھجوریں۔
تھوڑی مقدار۔ بڑا فائدہ۔
نظم و ضبط
ہر دن ایک جیسی ابتدا۔
افطار میں سکون۔
جسم اور ذہن دونوں بتدریج تیار ہوتے ہیں۔
کیا نہیں کرنا چاہیے۔
کھجور کو مٹھائی سمجھ کر زیادہ کھانا
کھجور غذا ہے۔ مٹھائی نہیں۔
سادگی کو نظرانداز کرنا
بھرے ہوئے یا شوگر میں لپٹے انداز سنت کی روح کے خلاف ہیں۔
اصل بات۔
کھجور جسم کو طاقت دیتی ہے۔
اور نفس کو قابو میں رکھنا سکھاتی ہے۔
رمضان کثرت کا مہینہ نہیں۔
یہ ضبط، شکر، اور وضوح کا مہینہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں۔۔۔۔
بسنت کا تہواراور اس کی حقیقت
